انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 109

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت گا۔لیکن اگر اُس وقت میری طرف سے تحریک جدید جاری ہوتی تو وہ اس قسم کے الفاظ ہرگز اپنے منہ سے نہ نکالتے لیکن اس تحریک کے جاری ہونے پر اب قدرتی طور پر لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ امیر غریب ہو گئے اور غریب امیر ہو گئے۔ظاہری لباس میں خاص شان نہ رہنے کا بھی بہت بڑا فائدہ ہے۔میں نے دیکھا ہے جلسہ سالانہ کے موقع پر ہماری جماعت کی کئی امیر عورتیں اس بات کو بہت تکلیف دہ سمجھتیں کہ وہ باقی عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر جلسہ سنیں اور وہ شکایت کرتیں کہ ہم باقی عورتوں کے پاس کس طرح بیٹھ سکتی ہیں اور بے اعتنائی کے ساتھ تقریریں سنتیں۔مگر چونکہ اب پہلی سی شان نہیں رہی اس لئے وہ غریب عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر تقریریں سن سکتی ہیں۔تو اپنے ذہن بھی ٹھیک ہوئے اور غربت و امارت کا امتیاز بھی جاتا رہا۔پہلے امیر سمجھتے کہ ہم بڑے ہیں اور غریب سمجھتے کہ ہم چھوٹے ہیں اور اس طرح درمیان میں ایک خلیج حائل رہتی۔مگر اب بجائے بعد اور جدائی کے آپس میں محبت ہے۔غریب امیر کے بلانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا اور امیر غریب پر تکبر نہیں کرتا کیونکہ سب کے کھانوں کا معیار ایک ہے۔دال گوشت کا فرق رہے گا مگر جو چٹ پٹی چیزیں اور زیادہ چیزیں تیار کرنے کا فرق تھا وہ اُڑ گیا۔اور اب ایک غریب اپنی جماعت کے امیر دوستوں کی بخوشی دعوت کر سکتا ہے۔مگر جب یہ امید کی جائے کہ پلاؤ بھی ہو زردہ بھی ہو کوفتہ بھی ہو سبزی بھی ہو مرغ بھی پکا ہوا ہو کباب بھی ہوں۔تو ایسی دعوت کو ایک غریب دُور سے ہی سلام کرتا ہے اور کہتا ہے میں اس سے باز آیا۔غرض اس تحریک کا ایک پہلو یہ تھا کہ میں غربت اور امارت کا امتیاز جماعت سے مٹاؤں اور جماعت کو مل کر کام کرنے کی عادت ڈالوں۔اور میں سمجھتا ہوں جس دن یہ امتیاز مٹا ، اُس دن حقیقی رنگ میں جماعت متحد ہوگی۔بے شک ایک حد تک اسلام نے اس امتیاز کو قائم رکھا ہے۔مگر اسلام اس بات سے منع کرتا ہے کہ امیر اپنی الگ گدی بنالیں اور غریبوں سے حقارت کے ساتھ پیش آئیں۔یہ نہایت خطرناک چیز ہے اور اس سے ایمان تک انسان کے دل سے نکل سکتا ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ ایک امیر کو اگر اعلیٰ عہدہ ملتا ہے تو وہ نہ لے تجارت میں اسے منافع ہو اس کے لینے سے انکار کر دے۔اچھے مکانات ہوں تو انہیں بیچ دے۔جس طرح وہ یہ نہیں کہتا کہ تم پلاؤ کھانے لگو تو اس میں مٹی ڈال لو۔مگر وہ اس بات کا حکم دیتا ہے کہ جسے روپیہ ملے وہ اسے جائز کاموں میں خرچ کرے۔اپنے نفس پر خرچ کرے خاندان کی عزت و حرمت کیلئے خرچ کرے۔قوم کیلئے خرچ کرے ملک کیلئے