انوارالعلوم (جلد 14) — Page 73
انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان یعنی اگر دیکھے کہ کسی غیر معروف نوجوان نے یا کسی غیر معروف بادشاہ نے اس کے سر پر سے ٹوپی اتار لی ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ یا تو اس کا بادشاہ مر جائے گا اور یا اس کے اور اس کے حاکم کے درمیان جدائی ہو جائے گی خواہ موت کے ذریعہ سے خواہ زندگی میں ہی دوسرے اسباب کی وجہ یعنی تفرقہ وغیرہ سے۔عمامہ کی تعبیر میں یہی امام محمد بن سیرین تابعی لکھتے ہیں۔وَالْعَمَائِمُ تِيُجَانُ الْعَرَبِ۔۔۔۔۔۔وَهِيَ قُوَّةُ الرَّجُلِ وَتَاجُهُ وَوَلَايَتُه۔یعنی پگڑیاں عربوں کا تاج کہلاتی ہیں اور ان سے مراد آدمی کی قوت اور اس کی بادشاہت اور حکومت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود کے کشف کی تعبیر ان تعبیروں کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواب کی تعبیر یوں ہوگی کہ ایک شخص آپ پر حملہ کرے گا اور آپ کے اور حکام کے تعلقات کے بگاڑنے میں کامیاب ہو جائے گا۔اسکے بعد وہ دوبارہ حملہ کرے گا اور اس دفعہ اس کی غرض یہ ہوگی کہ وہ احمدیت کی طاقت کو مٹا دے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوگا۔اس کے حملہ کے وقت پہلے ایک غیر مسلم شخص جو چھریرے بدن کا ہو گا، اسے روکنا چاہے گا لیکن اصل میں اس کی نیت اسکے روکنے کی نہ ہوگی بلکہ وہ دل میں کہتا ہوگا کہ اگر اس کام سے میں آزاد ہی رہوں تو اچھا ہے۔لیکن اس موقع پر قادیان کا ایک آدمی جو مومن اور متقی ہوگا، وہ بھی اس حملہ آور کو پکڑنے کیلئے آگے بڑھے گا اور اسکے آگے بڑھنے سے اس پہلے شخص کو بھی اچھی طرح پکڑنا پڑے گا اور آخر اس حملہ آور کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور بجائے لمبے مقدمہ کے اور مہینوں کی پیشیوں کے عام مقدمات کے دستور کے خلاف سرسری تحقیقات کے بعد جاتے ہی اس شخص کو ۴ یا ۶ یا ۹ ماه ( حضرت مسیح علیہ السلام کو رؤیا کا یہ حصہ بھول گیا کہ ان تینوں مدتوں میں سی کون سے مدت کی سزا ملی ) قید کی سزا دے دی جائے گی۔کشف نہایت صفائی سے پورا ہوا اب دیکھو یہ تینتیس سال پہلے کا کشف اس زمانہ میں آ کر کس صفائی اور وضاحت سے پورا ہوا ہے۔کون کہہ سکتا تھا کہ حکومت جماعت احمدیہ کا امتحان کر لینے کے بعد اور اس امر کا یقین کر لینے کے بعد کہ یہ جماعت فتنوں اور فسادوں سے بچتی ہے ایک لستان لیکچرار کی کوشش