انوارالعلوم (جلد 14) — Page 58
انوار العلوم جلد ۱۴ آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیر کور سے خطاب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیرز کور سے خطاب تقریر فرموده ۲۴ نومبر ۱۹۳۵ء) تشهد تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔پچھلے چار دنوں میں ہر کام آپ لوگوں کو مرکز سلسلہ کی حفاظت کیلئے کرنا پڑا ہے میں اس کے متعلق سب سے پہلے اپنی خوشنودی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جس نیت اور غرض کے ماتحت آپ لوگوں نے یہ کام کیا ہے اسی نیت اور غرض کے مطابق اللہ تعالیٰ آپ سے نیک سلوک فرمائے۔میں اس موقع پر یہ بات بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ انسان کے اعمال کے دو قسم کے بدلے ہوا کرتے ہیں ایک وہ بدلہ جو چاندی اور سونے کی صورت میں اسے ملتا ہے اور ایک وہ بدلہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رضا کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور اس موقع پر کچھ اموال ہاتھ آئے اور رسول کریم ﷺ نے بعض کمزور لوگوں میں انہیں تقسیم کر دیا تو بعض نوجوانوں نے اعتراض کیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے مگر رسول کریم ﷺ نے اموال مکہ والوں کو دے دیئے کیونکہ وہ آپ کے رشتہ دار تھے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے یہ بات بیان فرمائی کہ آپ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب مکہ والوں نے محمد (ﷺ) کو باوجود بھائی بند ہونے کے اپنے شہر سے نکال دیا تو مدینہ کے لوگوں نے پناہ دی، ان کے لئے ہر قسم کی قربانی کی ، اپنی جانیں تک دیں اور ہر رنگ میں مدد اور اعانت کی لیکن جب مکہ فتح ہو گیا تو انہوں نے تمام اموال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے۔آپ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ ہم نہیں کہتے۔ہم میں سے ایک بے وقوف نوجوان نے یہ بات کہی ہے۔آپ نے فرمایا مگر اس بات کی ایک اور