انوارالعلوم (جلد 14) — Page 59
انوار العلوم جلد ۱۴ آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیرز کور سے خطاب صورت بھی تھی اور اگر تم چاہتے تو اس رنگ میں بھی کہہ سکتے تھے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک نبی بھیجا ایسا نبی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں کا سردار بنایا اور روئے زمین کے تمام انسانوں کیلئے اسے ہادی بنا کر مبعوث کیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہ انسانی کوششوں سے بلکہ محض اپنے فضل اور رحم سے اور فرشتوں کی فوج کی مدد کے ساتھ اسے فتح دی اور مکہ جو اُس کا وطن تھا اس کے قبضہ میں دے دیا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مکہ میں اسے فاتحانہ طور پر داخل کیا تو مکہ جہاں کا وہ رہنے والا تھا، اس کے باشندے تو اونٹوں اور بھیڑوں کے گلے اپنے گھروں کو لے گئے لیکن مدینہ کے لوگ جہاں کا وہ رہنے والا نہ تھا اپنے گھروں میں خدا کے رسول کو لے آئے ہے۔تو دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چاندی اور سونے کے لئے محنتیں کرتے ہیں جیسے مکہ والے تھے کہ وہ اونٹوں کے گلے اپنے گھروں کو لے گئے۔ان کا بھی کام کرنے سے مقصد و مدعا یہ ہوتا ہے کہ سونا اور چاندی ان کی جیبوں میں پڑے۔لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مد نظر مال و دولت نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ان کا منتہائے نظر ہوتا ہے۔تو آپ لوگوں نے جو کام کیا ہے اگر چہ صرف آپ نے ہی یہ کام نہیں کیا گورنمنٹ کے سپاہی بھی اس کام پر متعین تھے اور جب وہ جائیں گے تو کسی کو رستہ کے اخراجات کیلئے روپیہ ملے گا اور کسی کو بھتہ ملے گا لیکن اس قسم کی کوئی چیز آپ لوگوں کو نہیں ملی اور گو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ آپ لوگوں کا وقت ضائع گیا لیکن جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مکہ کے لوگ تو اونٹوں کے گلے اپنے گھروں کو لے گئے اور مدینہ کے لوگ خدا کا رسول لے آئے۔اسی طرح اس کام کے بدلے جو چیز آپ لوگوں کو ملی ہے ، وہ ان لوگوں کو نہیں ملی۔آپ لوگوں نے سلسلہ کی حفاظت کا کام کر کے خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی ہے جس کے مقابلہ میں سونے اور چاندی کی کوئی حیثیت نہیں۔اس کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس اس دوران میں بعض اس قسم کی شکایتیں پہنچی ہیں کہ بعض افسروں نے اپنے ماتحتوں پر ختی کی۔میں سمجھتا ہوں ، اس قسم کے شکوے بالعموم کام کے وقت ہو ہی جاتے ہیں لیکن میں ان شکووں کی معقولیت کو تسلیم نہیں کر سکتا۔اس قسم کا نظام اسی لئے قائم کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو حاصل کرے اور محنت ومشقت اور تکالیف برداشت کرنے کا اپنے آپ کو عادی بنائے۔جو لوگ اس خیال سے نیشنل لیگ میں داخل ہوئے تھے کہ کوئی کھیل تماشہ ہو گا ، وہ تو بے شک تکالیف محسوس کر سکتے اور محنت کے کاموں سے کبیدہ خاطر ہو سکتے ہیں۔لیکن جو لوگ اس خیال کے ماتحت نیشنل لیگ میں داخل ہوئے تھے