انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 553

مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر انوار العلوم جلد ۱۴ منع کیا تھا یا نہیں کیا تھا اور تم اس پر اصرار کرتے تھے یا نہیں کرتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں۔حضرت علی نے کہا یہ سچ ہے یا نہیں کہ جب تم نے مجھے مجبور کیا تو میں نے انکار کرتے ہوئے اس کی اجازت دی مگر یہ شرط کر دی کہ وہی حکم قابل قبول ہو گا جو قرآن کریم کے مطابق ہوگا اور اگر قرآن کریم کے خلاف ہوا تو تم اور ہم اس سے بری ہوں گے۔انہوں نے کہا ہاں۔اس پر حضرت علی نے کہا۔پھر تم میری مخالفت اب کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم مانتے ہیں کہ تو نے ہمارے کہنے پر کمیشن مقرر کیا تھا لیکن ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے اس معاملہ میں سخت گناہ کیا اور ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں تو بہ کر لی اور چونکہ تو بہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اس لئے ہمارے گناہ معاف ہو گئے آپ بھی توبہ کر لیں۔حضرت علی نے کہا کچھ شرم کرو۔میں رسول کریم ہے کے ساتھ رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ اسلامی مسائل کیا ہیں اور کب کوئی فعل گناہ ہوتا ہے اور کب نہیں۔تم مجھے کیا سمجھاتے ہو انہوں نے کہا کچھ ہو آپ نے یہ کبیرہ گناہ کیا ہے کہ دین کے معاملہ میں کمیشن مقرر ہونے دیا اور چونکہ کبیرہ گناہ کا مرتکب خلیفہ نہیں رہ سکتا اس لئے آپ تو بہ کر لیں تب آپ کو خلیفہ مانیں گے۔حضرت علیؓ نے کہا میں تو سارے ہی گناہوں سے تو بہ کرتا رہتا ہوں اس پر دو ہزار آدمی جو معلوم ہوتا ہے کچھ مجھدار یا نیک تھے واپس آ گئے اور انہوں نے کہا کہ اب بات ہماری سمجھ میں آگئی ہے ہم ہی غلطی پر تھے مگر باقی نے پھر بھی واپسی سے انکار کیا۔میں نے ایک تاریخ میں پڑھا ہے مگر اب حوالہ یاد نہیں کہ خوارج یہ کہتے تھے کہ جب علی نے توبہ کی تو گویا گناہ کا اقرار کیا اور چونکہ گنہ گار خلیفہ نہیں ہوسکتا اس لئے اب دوبارہ ہم جسے چاہیں امیر مقرر کریں۔حضرت علیؓ نے ان لوگوں کا نام حروریہ رکھا (جیسے آج کل کچھ لوگ احراری کہلاتے ہیں ) مگر وہ اپنے آپ کو شراۃ کہتے تھے یعنی انہوں نے دنیا دے کر آخرت کو خرید لیا ہے۔جیسے مصری صاحب بھی کہتے ہیں کہ میں نے خدا کیلئے اپنی نوکری پر لات مار دی اور ذرا بھی اس بات کی پرواہ نہ کی کہ بیوی بچے کہاں سے کھائیں گے۔اس کے بعد ان لوگوں نے عبداللہ بن وہب کی بیعت کر لی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بیعت کے مخالف نہیں تھے بلکہ بیعت خلافت کے مخالف تھے اور ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ قوم خلیفہ کی نگران ہے اور جب چاہے اس پر الزام لگا کر اس سے الگ ہو سکتی ہے۔اس کے بعد یہ لوگ کوفہ سے بصرہ کی طرف گئے اور وہاں کے خوارج کو ساتھ لیتے ہوئے نہروان چلے گئے ( جو بغداد اور واسطہ کے درمیان مشرقی جانب ایک