انوارالعلوم (جلد 14) — Page 554
انوار العلوم جلد ۱۴۔مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر علاقہ ہے۔اس نام کا ایک گاؤں بھی ہے جس کے درمیان نہر جاری ہے ) حضرت علی نے ان سے متواتر خط و کتابت کی کہ جماعت میں داخل ہو جائیں لیکن وہ اس سے اور اترا گئے اور سمجھنے لگے کہ ہمارے اندر بھی کوئی خوبی ہے اور پھر اس حد تک بڑھ گئے کہ حضرت خباب جو السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ صحابہ میں سے تھے اور جن کے متعلق یہ اختلاف ہے کہ انہوں نے پہلے بیعت کی یا بلال نے۔کیونکہ رسول کریم علیہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ ایک غلام اور ایک حُر نے مجھے سب سے پہلے قبول کیا۔بعض لوگ اس سے حضرت بلال اور حضرت ابو بکر مراد لیتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت ابو بکر اور حضرت خباب ہیں۔بہر حال حضرت خباب اور جو اولین صحابہ میں سے تھے ان کے بیٹے عبداللہ اور ان کی بیوی ایک دفعہ نہروان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپ سے کہا کہ ابو بکر اور عمر کی نسبت آپ کا خیال کیا ہے؟ حضرت عبداللہ کہنے لگے میں جواب تو دیتا ہوں مگر دیکھنا ناراض نہ ہونا۔انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم ناراض نہیں ہوں گے۔حضرت عبداللہ نے کہا ابو بکر اور عمر بڑے اچھے آدمی تھے اور ان میں کوئی عیب نہیں تھا۔پھر انہوں نے حضرت عثمان کے متعلق دریافت کیا۔حضرت عبداللہ نے ان کی بھی تعریف کی۔پھر انہوں نے حضرت علیؓ کے متعلق دریافت کیا۔حضرت عبداللہ نے کہا آپ بھی بڑے اچھے آدمی ہیں۔انہوں نے کہا نہیں یہ بتاؤ جب فتنہ پیدا ہوا اُس وقت کیسے تھے اور فتنہ سے پہلے کیسے تھے؟ یہ لوگ چونکہ اپنی بیعت فسخ کرنے کی بڑی وجہ یہی بیان کیا کرتے تھے کہ پہلے حضرت علی بڑے اچھے تھے مگر بعد میں جب ان میں نقائص پیدا ہو گئے تو ان نقائص کی وجہ سے ہم ان سے الگ ہو گئے۔اسی طرح حضرت عثمان بھی پہلے بڑے اچھے تھے مگر بعد میں خراب ہو گئے اور ہمیں اپنی بیعتیں فتح کرنی پڑیں اس لئے انہوں نے سوال کیا کہ یہ بتا ؤعلی فتنہ سے پہلے کیسے تھے اور فتنہ کے بعد کیسے ہیں؟ حضرت عبداللہ نے کہا پہلے بھی اچھے تھے اور اب بھی اچھے ہیں۔غرض جب انہوں نے چاروں خلفاء کی تعریف کی تو خورارج ان سے کہنے لگے تو تو کا فر ہے اور یہ کہتے ہوئے چھری سے ان کا پیٹ پھاڑ دیا۔پھر ان کی بیوی جو حاملہ تھیں ان کا پیٹ بھی انہوں نے پھاڑ دیا اور بچہ جو آٹھ ماہ کے قریب تھا اُس کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے مگر با وجود اس وحشت اور بربریت کے ان کو تقویٰ کا بڑا دعویٰ تھا چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے گری ہوئی کھجور کھالی تو اس سے تھکوائی۔ایک ذمی نے اپنی کھجوروں کا درخت پیش کیا تو کہا کہ بغیر قیمت نہ لیں گے۔ایک ذمی کا کسی نے خنزیر زخمی کر دیا تو اُس سے معافی منگوائی لیکن مسلمان