انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 515

مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر انوار العلوم جلد ۱۴ ایسی نہیں ہو سکتی جس کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ فلاں وقت رُک جائے گی۔مؤمن کی قربانی اُس کی موت تک چلتی ہے۔اس عرصہ میں قربانیوں کی شکل بے شک بدل سکتی ہے مگر قربانیوں کا سلسلہ بند نہیں ہو سکتا۔تم اس کا نام تحریک جدید نہ سہی کوئی اور نام لکھ لو مگر بہر حال تمہیں کبھی جانی کبھی مالی اور کبھی وقتی قربانیاں ہمیشہ کرنی پڑیں گی۔پس یہ امر جماعت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ قربانیوں کا مطالبہ موت تک ہے۔اس عرصہ میں شکلیں بدل سکتی ہیں مگر یہ مطالبہ نہیں بدل سکتا کیونکہ قربانی کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہم روٹی نہ کھائیں اور پھر بھی زندہ ر ہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہم دو مہینے روٹی کھاتے رہیں اور دو مہینے کھانا کھانا بند کر دیں اور فاقہ کر نے لگیں۔ہم جب بھی فاقہ کریں گے اور کھانے کا سلسلہ بند کر دیں گے جو پہلے کھانا کھایا ہوا ہوگا وہ بھی ضائع ہو جائے گا اور ہم کمزور ہونے شروع ہو جائیں گے۔اس کے مقابلہ میں جتنا زیادہ اعلیٰ کھانا کھائیں گے اتنی ہی زیادہ طاقت ہمارے اندر پیدا ہوگی سعد کی اسی امر کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے۔تنویر شکم د میدم تافتن مصیبت بود روز نا یافتن جب دنیا میں انسان بغیر غذاء کے نہیں جی سکتا تو کس طرح ممکن ہے کہ روحانی لحاظ سے وہ بغیر غذاء کے جی سکے اور روحانی دنیا میں ایک مؤمن کی غذاء صرف قربانی ہے۔ہماری نمازیں ہماری روحانی غذاء ہیں۔ہمارے روزے ہماری روحانی غذاء ہیں، ہمارے حج ہماری روحانی غذاء ہیں ، ہماری زکو تیں ہماری روحانی غذاء ہیں ، ہماری تبلیغیں ہماری روحانی غذاء ہیں اور جب بھی کسی کی یہ روحانی غذاء کم ہو ساتھ ہی اس میں ضعف کے آثار پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ضعف کے بعد موت واقع ہو جاتی ہے۔پس اچھی طرح سمجھ لو کہ قربانیاں جماعت کے لئے لازمی ہیں اور ہمیشہ کیلئے ہیں۔ایک افسر نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ جب انہوں نے کارکنوں سے دریافت کیا کہ کیا تم نے اپنی جماعت کے دوستوں کو یہ تحریک پہنچادی تھی تو انہوں نے کہا ہمیں تو توفیق نہیں تھی اس لئے ہم نے اس میں حصہ نہیں لیا اور کسی اور کو کہنے کی کیا ضرورت ہے یہ تحریک تو ہر شخص کے کانوں تک پہنچ چکی ہے۔یہ ایک سخت کمزوری کی علامت ہے جو اُن کے کارکنوں سے ظاہر ہوئی اور میں سمجھتا ہوں یہ محض اس شرمندگی اور ندامت کو مٹانے کا بہانہ ہے جو انہیں اس وجہ سے ہوتی ہے کہ