انوارالعلوم (جلد 14) — Page 475
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض ہو۔جب وہ حکم دے بڑھو اور جب وہ حکم دے ٹھہر جاؤ۔اور جدھر بڑھنے کا وہ حکم دے اُدھر بڑھو اور جدھر سے ہٹنے کا حکم دے اُدھر سے ہٹ آؤ۔اس حکم کی جب تک فرمانبرداری نہ کی جائے ، خلافت ایک بے معنی ٹھے رہ جاتی ہے اور وہ اتحاد جس کے پیدا کرنے کیلئے اسلام نے یہ سب سامان پیدا کیا ہے، کسی طرح بھی پیدا نہیں ہو سکتا اور اسلام کی وہ ترقی جو اس اتحاد سے مقصود ہے، حاصل نہیں ہوسکتی۔ادھوری اتباع صرف طاقت کو ضائع کرنے والی ہوتی ہے۔اس سے صرف لوگوں کی آزادی چھنتی ہے اور وہ شیر میں پھل نہیں پیدا ہوتے جن پھلوں کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا منشا ہے اور جن پھلوں کو کھا کر مومن اسی دنیا میں جنت کے مزے لوٹ سکتا ہے۔اس اصل کو مدنظر رکھ کر دوست دیکھیں کہ گزشتہ دعا اور صبر کی تلوار سے کام لو ایام میں میں نے انہیں کیا نصیحتیں کی تھیں۔اول چند ہفتے ہی ہوئے ہیں کہ میں نے اپنے لڑکے مرزا منور احمد کا ذکر کیا تھا کہ وہ احمد یہ ہوٹل لا ہور میں ایک لڑائی میں شامل ہو گیا اس وجہ سے کہ اسے کسی نے تھپڑ مار دیا تھا۔میں نے بتایا تھا کہ مجھے اس امر کا سخت صدمہ ہوا اور میں نے اسے اُس پر زجر کی اور کہا کہ کسی سے مارکھا کر مار لینا تو ایک شریف ہندو اور ایک شریف عیسائی سے بھی متوقع ہے، تم جو مسیح موعود علیہ السلام کی اولا د سے ہو، تم نے کیوں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل نہ کیا کہ:۔گالیاں سنکر دعا دو پا کے دکھ آرام دو اور میں نے اُسے کہا کہ اگر تم ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل نہ کرو گے تو دوسرے لوگوں پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔یہ واقعہ میں نے اس قدر قریب کے زمانہ میں دوستوں کو سنایا تھا کہ اسے اس قدر جلد فراموش نہیں کیا جاسکتا تھا مگر افسوس کہ آپ میں سے بعض نے اسے فراموش کر دیا اس لئے اب میں پھر جماعت کی توجہ اس طرف پھراتا ہوں کہ میری پالیسی یہی ہے کہ صبر سے کام لو اور اینٹ کا جواب اینٹ سے اور پتھر کا جواب پتھر سے نہ دو بلکہ گالیاں سنو اور خاموش رہو۔اشتعال پیدا ہو تو اس جگہ کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب ہمارے خدا کے امتحان ہیں۔وہ ہم کو اُس روحانی جنگ کیلئے جو اسلام کی فتح کیلئے روحانی ہتھیاروں سے لڑی جانے والی ہے تیار کر رہا ہے۔اگر اُس نے ہم سے ظاہری تلوار میں چلوانی ہوتیں تو وہ ہم کو ظاہری حکومت اور ظاہری فوج بھی عطا کرتا لیکن اُس