انوارالعلوم (جلد 14) — Page 476
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض نے ایسا نہیں کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ہم سے دعا اور صبر کی تلوار چلوانا چاہتا ہے ، نہ کہ لوہے کی تلوار۔اسلام اور شریعت کے خلاف کوئی حرکت نہ کرو دوسری نصیحت میں نے اس کے بعد بالکل قریب عرصہ میں کی تھی جو یہ ہے:۔پھر بھی چونکہ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ کمز ور لوگ ہوتے ہیں اور وہ غلطی کر سکتے ہیں اس لئے میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے اشتعال کے موقع پر انسان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔پس اپنے ایمانوں کو درست رکھو اور کبھی کوئی ایسی حرکت نہ کرو جو اسلام اور شریعت کے خلاف ہو۔تم کو اس بات کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن میرے دل میں خلافت کی ایک بکری کی مینگنی کے برابر بھی قیمت نہیں ہو سکتی اگر اس کی تائید کیلئے جھوٹ اور فریب سے کام لیا جائے۔خلافت اُسی وقت تک قابل قدر ہے جب صداقت کی تلوار سے اس پر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جائے اور انصاف کے تیروں سے اس کی حفاظت کی جائے۔پس یاد رکھو کہ خواہ کیسی ہی حالت پیش آئے تم عدل اور انصاف کو نہ چھوڑو اور جو سچائی ہوا سے اختیار کروتا دشمن کو تمہارے متعلق کسی قسم کے اعتراض کا موقع نہ ملے۔اور یا درکھو کہ اگر کوئی شخص تمہیں جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے تو خواہ وہ ناظر ہی کیوں نہ ہو، تم فوراً اُس کی رپورٹ میرے پاس کرو کیونکہ ہمارے پاس ایمان کے سوا اور کوئی چیز نہیں۔ہم کنگال اور خالی ہاتھ ہیں اگر ایمان کی دولت بھی ہمارے ہاتھ میں نہ رہی اور اگر ہم نے اسے بھی چھوڑ دیا تو پھر ہماری حالت وہی ہوگی جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ: ہی ملا نہ وصال صنم خدا نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے پس صداقت اور انصاف سے کام لو اور غیرت اور قربانی اور ایثار کا مظاہرہ کر و۔مگر یاد رکھو تم نے ظلم نہیں کرنا اور جھوٹ نہیں بولنا اور اگر کوئی شخص تمہیں ظلم کرنے یا جھوٹ بولنے کی تعلیم دیتا ہے تمہیں کہتا ہے کہ جاؤ اور اپنے دشمن کو مار آ ؤ۔یا جاؤ اور اُسے پیٹو ، تو تم فوراً سمجھ جاؤ کہ تمہارے سامنے ایمان کا جبہ پہنے ایک شیطان کھڑا ہے