انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 468

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض الفاظ قریباً یہ تھے کہ ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری اس واقعہ کے متعلق مباہلہ کے اخبار سے تعلق رکھنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔غرض اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض لوگ شریفانہ دلائل اور درخواستوں اور التجاؤں کو بالکل ٹھکرا دیتے ہیں اور اشتعال انگیزی میں حد سے گزر جاتے ہیں اور بعض طبائع کیلئے اس حالت کا زیادہ دیر تک برداشت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اور سرکاری عدالتوں نے بھی اس صورتِ حالات کو تسلیم کیا ہے اور بعض دفعہ سزاؤں میں بھی اس کا لحاظ رکھا ہے لیکن یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس اشتعال کی صورت میں حملہ کرنے والے کو کسی نے غیر مجرم قرار نہیں دیا، نہ شریعت نے نہ قانون نے۔اور عدالتوں نے گوسزا میں بعض دفعہ تخفیف کر دی ہے مگر کبھی ایسے شخص کو معاف نہیں کیا۔سخت اشتعال میں کوئی فعل کرنے پس قانون اور شریعت نے اس حالت کو گونیم مجبوری تسلیم کیا ہے، معذوری قرار والے کو معذور نہیں قرار دیا گیا نہیں دیا اور جب تک ایک عمل کو معذوری قرار نہ دیا جائے اُس وقت تک اس کے گناہ ہونے میں کوئی مبہ نہیں ہوتا اور جب تک ایک عمل گناہ ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس سے بچیں۔ورنہ ہماری مثال وہی ہوگی کہ : نہ خدا ہی ملا نه وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ایک طرف ہم دشمنوں سے گالیاں بھی سنیں گے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا دروازہ کھولیں گے۔بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ایسے برداشت نہ ہو سکے تو کیا کر یں موقع پر برداشت ہو ئے تو ہم کیا کر یں۔پر ہو سکے اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورت میں چاہئے کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ دیں جس جگہ ان کیلئے اشتعال میں قانون شکنی کا امکان ہو۔مثلاً ان ایام میں کہ قادیان ہماری مقدس بستی ، ہماری امیدوں کے مرکز ، ہمارے شعائر اللہ کے مقام کو بعض لوگوں نے فساد کی جگہ بنا رکھا ہے، اگر کسی شخص کو آج کل کے حالات کو دیکھ کر معلوم ہو کہ وہ اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکے گا تو اُسے چاہئے کہ وہ کچھ دنوں کیلئے قادیان کو چھوڑ کر باہر چلا جائے تا کہ نہ وہ لوگ اسے نظر آئیں جن کو