انوارالعلوم (جلد 14) — Page 467
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض ایسی تکلیف کی حالتیں ہمیشہ خلاف شریعت افعال سے پیدا ہوتی ہیں ، شریعت کی اتباع میں ایسی حالت پیدا نہیں ہوتی۔میاں عزیز احمد اور دوستوں کو نصیحت خلاصہ یہ کہ میاں عزیز احمد صاحب کا یه فعل اسلامی شریعت اور سلسلہ کی روایات کے خلاف تھا۔پس ایک طرف تو میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تو بہ کریں اور استغفار کریں اور دوسری طرف میں دوسرے دوستوں کو کہتا ہوں کہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہئے اور اگر کسی سے ایسی حرکت سرزد ہوئی تو میں اُسے فوراً جماعت سے خارج کر دوں گا۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس امر کی توفیق دے کہ وہ سلسلہ کی خدمت حق اور صداقت سے کرسکیں۔میں اس جگہ اس شبہ کا انتہائی اشتعال دلانے والے کی ذمہ واری بھی ازالہ کر دینا چاہتا ہوں جو بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے“۔میں اسے تسلیم کرتا ہوں کہ بعض گندی فطرت کے لوگ نصیحت اور وعظ سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور جتنی ان سے نرمی کی جائے اتنی ہی ان کی شرارت بڑھتی جاتی ہے۔یہ لوگ اپنی فطرت کا خون کر چکے ہوتے ہیں اور شرافت کو دفنا چکے ہوتے ہیں اور میں اسے بھی تسلیم کرتا ہوں کہ جب انسانیت اور شرافت کی اپیلیں بالکل بے اثر ہو جاتی ہیں اور دشمنوں کی گالیاں اور اتہام حد سے بڑھتے جاتے ہیں اور ان کے حملے نا قابل برداشت ہوتے جاتے ہیں تو بعض طبائع کے لئے اپنے نفس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے اور ان کے دماغ پر ایک عارضی جنون کا حملہ ہو جاتا ہے اور تمام جائز ذرائع کو بے اثر پا کر وہ اپنی بے خودی میں ناجائز ذرائع کے استعمال پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس حالت کو قانون نے بھی نظر انداز کیا اور بیسیوں ہائی کورٹ کے فیصلے ایسے ہیں جن میں انہوں نے اس قسم کی اشتعال کی صورت میں اشتعال دلانے والے کو برابر کا مجرم قرار دے کر سزا میں بہت حد تک تخفیف کر دی ہے۔چنانچہ ۱۹۳۰ ء میں جو ایک ناگوار واقعہ محمد علی خان صاحب مرحوم کے ہاتھوں ظاہر ہوا تھا ، اُس وقت بھی گو اُن کی سزا میں ہائی کورٹ نے تخفیف نہیں کی تھی لیکن اس امر کا اظہار زور دار لفظوں میں کیا تھا کہ اس حملہ کی ذمہ داری بہت حد تک جماعت کے امام اور اس کے خاندان کو گالیاں دینے والے مستریوں پر ہے اور ہائی کورٹ کے