انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 387

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف۔۔۔میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ پہلو اپنے بھائی کے متعلق تجویز نہیں کرتے۔تو کیا خلیفہ کا مقام ایک عام مؤمن کے برابر بھی نہیں کہ اس کے متعلق کم سے کم ، ادنیٰ سے ادنی حسن ظنی سے کام لیا جائے اور سمجھا جائے کہ اس نے کم سے کم دیانت داری سے فیصلہ کیا ہے اور ذاتی بغض نہیں نکالا۔یہ آیات جو میں نے ابھی پڑی ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الامنتِ إِلى أَهْلِهَا سے یوں تو سارا قرآن ہی حکم ہے مگر جب زیادہ زور دینا ہو تو دوبارہ حکم کا لفظ آتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بڑا ضروری حکم ہے۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب موقع آئے کہ تم اپنا لیڈر چنو تو خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ تم اسے چنو جسے اس کا اہل سمجھو اور جس کے متعلق یقین ہو کہ وہ جماعت کو ٹھیک راستہ پر چلائے گا۔آگے فرمایا۔وَإِذَا حَكَمْتُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ کے یعنی جب خدا تعالی تمہیں اس مقام پر پہنچائے تو عدل کرو۔اس جملہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اس جگہ امانت سے مرا د امانت حکومت ہے ورنہ دوسری امانت کا تعلق فیصلہ کرنے اور عدل کرنے سے نہیں ہوتا۔پھر فرمایا إِنَّ الــلــه نِعِمَّا يَعِظُكُمْ به شعیہ اللہ تعالی کا بہت ہی بابرکت حکم ہے پھر فرمایا إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا اللہ تعالیٰ بہت سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی ان دونوں باتوں میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم بد نیتی سے رائے دو اور امیر کے متعلق رائے دیتے ہوئے تمہارے نفوس کسی ذاتی غرض کو پوشیدہ رکھ رہے ہوں، پس اگر ایسا کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے اور سننے والا ہے وہ ضرور اس کی سزا تمہیں دے گا اور اگر وہ شخص جسے تم نے امیر یا افسر چنا ہے کوئی بد دیانتی کرتا ہے تو بھی یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ سنے اور دیکھنے والا ہے ، وہ اسے خود سزا دے گا۔پھر فرمایا - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ = اس آیت سے بھی صاف ظاہر ہے کہ یہاں امانت سے مراد امامت حکومت ہی تھی۔ورنہ اگر روپیہ یا مال رکھنے کے متعلق یہ ہدایت ہوتی تو اس جگہ اُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمُ کی اطاعت کا ذکر کیوں آتا پس یہاں امانت حکومت ہی مراد ہے۔پھر فرمایا۔فَإِنْ تَنَازَ عَتُمُ فِي شَيْيءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ والرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَأْوِيلاً 2 اگر تمہیں کسی ایسے حاکم سے شکوہ پیدا ہو تو اسے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے سپرد کر دو جنہوں نے اس کی اطاعت کا حکم دیا ہے تمہارا یہ کام نہیں کہ جھگڑے کا تصفیہ کرو کیونکہ اس صورت میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔تمہارا فرض یہ ہے کہ امیر کی مخالفت یا اس