انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 386

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ بندوبست کر کے اس کی تکلیف کا کفارہ کر دیا جائے۔ایسے واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔بعض لوگوں کے متعلق یہ اطلاع آنے پر کہ وہ یہاں رپورٹیں کرنے کیلئے آئے ہیں، آپ نے ان کو نکال دیا۔پس جس وقت جماعت کی نیک نامی اور عزت کا سوال ہو ، افراد کو نہیں دیکھا جا سکتا۔اُس وقت کوئی شخص چاہے جماعت میں رہے یا نہ رہے جماعت کی عزت کی حفاظت ضروری ہوتی ہے اور میں صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر پھر کبھی موقع آیا تو میں پھر بھی ایسا کروں گا۔جب قبرستان کا واقعہ ہوا، میں تو قادیان میں موجود ہی نہ تھا۔پھر اگر وہ شخص کوئی ایسا بیان دے دیتا تو اُس کی بدنامی میرے نام تو لگ ہی نہیں سکتی تھی۔میرے ساتھ اس واقعہ کا تعلق بھی نہ تھا میں اُس وقت دھر مسالہ میں تھا اس لئے میری عزت یا بدنامی کا تو سوال ہی نہ تھا۔میرے سامنے تم سب کی مجموعی عزت کا سوال تھا۔وہ جماعت کا ہی نام لے سکتا تھا میرا نہیں کیونکہ میں تو یہاں تھا ہی نہیں۔پولیس یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ میں سازش کر کے باہر بھاگ گیا کیونکہ سازش وہ ہوتی ہے جس کیلئے پہلے سے تیاری کی جائے ، مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ منگو کی لڑکی کے مرنے کا پہلے سے ہی انتظام کیا گیا تھا اور میں کہہ گیا تھا کہ میں جاؤں تو اُسے مار دینا اور پھر قبرستان پر جھگڑا کرنا اور احرار کو بھی وہاں لے جانا اور وہاں لے جا کر انہیں مارنا اس لئے واقعات کی بناء پر کوئی مجھ پر تو الزام لگا ہی نہیں سکتا تھا کہ میرا بھی ان میں حصہ ہے۔میرے سامنے اُس وقت صرف سلسلہ کی عزت کا سوال تھا۔چنانچہ جب مجھے معلوم ہوا کہ پولیس اس کوشش میں ہے کہ اسے خریدے تو میں نے سمجھا چاہے یہ خبر غلط ہی ہوا اور چاہے اسے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو، لیکن چونکہ اس سے بعض اور غلطیاں ہو چکی ہیں اور میں اسے سزاد ینے میں خدا کا مجرم نہیں۔آؤ میں اس خطرہ سے جماعت کو بچانے کیلئے اسے جماعت سے خارج کر دوں۔علاوہ ازیں جماعت کے افراد کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جسے سلسلہ کی طرف سے کوئی سزا دی جاتی ہے اگر وہ قصور وار ہے تو اسے قصور تسلیم کر کے دلیری سے سزا برداشت کرنی چاہئے اور ساتھ تو بہ کرنی چاہئے تا کہ دل پر زنگ نہ لگ جائے۔اور اگر وہ اپنے دل میں اپنے آپ کو بے قصور سمجھتا ہے تو ادنی دیانت داری جو ایک مؤمن میں ہونی چاہئے ، کم سے کم وہ اتنی تو خلیفہ میں تسلیم کرے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بِأَنْفُسِهِمْ خیراً جب کوئی بُری بات مؤمنوں کو کسی مؤمن کے بارہ میں معلوم ہو تو کیوں وہ اس کا نیک