انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 355

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) دن آپ کے پاس ایک کارڈ لایا کہ ہمارے گاؤں کے نمبر دار کو لکھ دیں۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لکھنا ہے؟ تو وہ کہنے لگا آپ نے جو میرا مذہب دریافت کیا تھا۔میں نمبر دار کو لکھ کر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ میرا مذہب کیا ہے؟ حضرت خلیفہ اول ہمیشہ اُس کے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ نماز پڑھو مگر وہ کہتا کہ مجھے نماز نہیں آتی صرف سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللهِ کہنا آتا ہے۔خیر ایک دن حضرت خلیفہ اول نے پیرے سے کہا کہ اگر تم ایک دن پورے پانچ وقت کی نمازیں جماعت سے ادا کرو تو میں تمہیں دو روپے انعام دونگا۔اُس نے عشاء سے نماز شروع کی اور اگلی مغرب کو پوری پانچ ہوتی تھیں۔اُن دنوں مہمان چونکہ تھوڑے ہوتے تھے اس لئے اُن کا کھانا ہمارے گھر میں ہی تیار ہوتا تھا۔مغرب کے وقت جب کھانا تیار ہوا تو اندر سے خادمہ نے آواز دی کہ پیرے! کھانا لے جاؤ۔وہ نماز پڑھ رہا تھا اور یہ اُس کی پانچویں نماز تھی لیکن بُلانے والی عورت کو اس کا علم نہ تھا اس لئے وہ برابر آواز میں دیتی گئی۔اس پر پیرا نماز میں ہی زور سے کہنے لگا۔ٹھیر جا۔التحیات ختم کر کے آندا ہاں۔ایک دفعہ کسی کام کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسے بٹالہ بھیجا۔وہاں اسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مل گئے۔وہ اکثر لوگوں کو قادیان آنے سے باز رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔اُس دن اتفاقا انہیں اور کوئی نہ ملا تو انہوں نے پیرے کو ہی پکڑ لیا اور کہا۔پیرے! تو کیوں قادیان بیٹھا ہے ؟ پیرے نے جواب دیا مولوی صاحب! میں پڑھا لکھا تو ہوں نہیں ، ہاں ایک بات ہے جو میں جانتا ہوں اور وہ یہ کہ مرزا صاحب قادیان میں بیٹھے ہیں اور لوگ دُور دُور سے یوں میں دھکے کھا کھا کے ان کے پاس پہنچتے ہیں۔مگر آپ بٹالہ میں رہتے ہیں جہاں لوگ آسانی کے ساتھ پہنچ سکتے ہیں مگر آپ کے پاس کوئی نہیں آتا۔حتی کہ روزانہ لوگوں کو سمجھانے کیلئے آپ خود سٹیشن پر آتے ہیں اور شاید اس کوشش میں آپ کی جوتی بھی گھس گئی ہوگی لیکن لوگ آپ کی بات نہیں مانتے۔آخر کوئی بات تو ہے کہ لوگ مرزا صاحب کی طرف اس طرح کھچے چلے جاتے ہیں اور آپ کو کوئی نہیں پوچھتا۔غرض اس قسم کے آدمی ہی جن ہوتے ہیں جو کسی کی بات نہیں مانتے اور دوسرے کی اطاعت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔مگر جب انبیاء کے سامنے آتے ہیں تو یکدم ان کی حالت بدل جاتی ہے۔حضرت عمر کو ہی دیکھ لو۔وہ ابتدا میں اسلام کی کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اور ایک دفعہ تو انہیں یہاں تک جوش آیا کہ تلوار سونت لی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کرنے کے ارادہ سے گھر سے