انوارالعلوم (جلد 14) — Page 327
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (1) بالکل خاموش ہو گیا۔تو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم میں ایسے وسیع مطالب بیان کئے گئے ہیں کہ اگر انسان غور کرے تو وہ خزانہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ہاں جولوگ اسے بند کتاب سمجھ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس میں سے نئے معارف نہیں نکل سکتے اُن پر واقعہ میں کوئی بات نہیں کھلتی۔جس طرح اگر تم کسی جنگل میں سے گزر رہے ہو تو تمہارے سامنے ہزاروں درخت آئیں گے مگر تم کسی کو غور سے نہیں دیکھو گے لیکن اگر محکمہ جنگلات کا افسر معائنہ کرنے کیلئے آ جائے تو وہ بیسیوں نئی باتیں معلوم کر لیتا ہے۔اسی طرح جو شخص اس نیت سے قرآن پڑھتا ہے کہ یہ غیر محدود خزانہ ہے وہ اس سے فائدہ اُٹھا لیتا ہے اور جو اس نیت سے نہیں پڑھتا وہ محروم رہتا ہے۔الہامی کتابوں کے مطالب کے ہر زبان میں تشبیہہ اور استعارہ کا استعمال متعلق دوسری مشکل جیسا کہ میں بتا چکا ہوں تشبیہہ اور استعارہ کی ہے۔دنیا کی ہر زبان میں تشبیہ اور تمثیل کا استعمال موجود ہے۔ہر اعلی علمی کتاب میں تشبیہات و تمثیلات بیان ہوتی ہیں۔ہر ملک میں استعاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں محاورہ ہے کہ آنکھ بیٹھ گئی، مگر کوئی نہیں کہتا کہ کیا آنکھ کی بھی ٹانگیں ہیں؟ یا وہ بیٹھی ہے تو کس پلنگ اور کرسی پر۔کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ آنکھ بیٹھنے کے معنی یہ ہیں کہ آنکھ ضائع ہو گئی اور پھوٹ گئی۔اسی طرح اور بیسیوں نہیں سینکڑوں محاورے زبانِ اردو میں استعمال کئے جاتے ہیں اور یہ استعارے زبان کے کمال پر دلالت کرتے ہیں۔غرض تشبیہہ اور استعارہ ایسی ضرور چیز ہے کہ اس کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہوسکتا۔اور چونکہ اس کے استعمال سے مضامین خوبصورت اور مزین ہو جاتے ہیں اس لئے الہامی کتابیں بھی اسے استعمال کرتی ہیں۔اور اس طرح وہ اِس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ تشبیہہ اور استعارہ بڑی ضروری چیز ہے۔الہامی کتب کے بارہ میں لوگوں کی مشکلات لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے الہامی کتابوں کو چونکہ بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے اس لئے لوگ اس کے لفظ لفظ پر بیٹھ جاتے ہیں اور تشبیہہ اور استعارہ کی وجہ سے غلطی خوردہ لوگ دو انتہاؤں کو پہنچ جاتے ہیں۔کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو تشبیہ اور استعارہ کو بالکل نظر انداز کر کے اسے حقیقت پر محمول قرار دے دیتے ہیں۔اگر قرآن