انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 295

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانه رب العزت تیرے دین کی خدمت میں ہم لگ جائیں۔ماسوی اللہ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہو جائے ، تیرے جلال کا دنیا پر قائم کرنا اور تیری صفات کا کامل ظہور ہمارا مقصد ہو جائے ، ہم تجھ میں نہاں ہو جائیں اور تو ہمارے دلوں میں آ جائے۔اے خدا! تو ایسا ہی کر (اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی دعافرمائی اور دعا کے بعد ارشاد فرمایا ) اس دعا کے بعد میں جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں اور اب میں تو چلا جاؤں گا لیکن جیسا کہ میں نے گل نصیحت کی تھی دوستوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اوقات جلسہ سالا نہ کی تقاریر سننے میں صرف کریں اور خود بھی اور اپنے دوستوں کو بھی اِدھر اُدھر پھرنے سے روکیں۔ایک وقت تھا جب آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے دُور تک آواز نہیں پہنچ سکتی تھی اور دوستوں کا ادھر ادھر پھر نا کسی حد تک معذوری میں داخل تھا مگر اب تو خدا تعالیٰ کے فضل سے لاؤڈ سپیکر لگ گیا ہے جس کی وجہ سے آواز بخوبی پہنچ جاتی ہے۔ایسے موقعوں پر پہلے یہ گھبراہٹ ہوا کرتی تھی کہ دوستوں تک آواز کس طرح پہنچے گی مگر اب تو اگر میلوں بھی لوگ پھیلے ہوئے ہوں تو لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ اُن تک آواز پہنچ سکتی ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ مسیح موعود اشاعت کے ذریعہ دین اسلام کو کامیاب کرے گا اور قرآن کریم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے کے اللہ تعالیٰ نے اس نشان کی صداقت کیلئے پہلے قلم سے نکلی ہوئی تحریرات لوگوں تک پہنچانے کیلئے پر لیس جاری کر دیئے اور پھر آواز پہنچانے کیلئے لاؤڈ سپیکر اور وائرلیس وغیرہ ایجاد کرادئیے۔اور اب تو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسا دن بھی آسکتا ہے کہ ہر مسجد میں وائرلیس کا سیٹ لگا ہوا ہو اور قادیان میں جمعہ کے روز جو خطبہ پڑھا جارہا ہو، وہی تمام دنیا کے لوگ سُن کر بعد میں نماز پڑھ لیا کریں۔غرض لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ اگر لاکھوں کا اجتماع ہو، تب بھی آسانی سے آواز پہنچائی جاسکتی ہے اس لئے دوستوں کو اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تمام تقریروں کو توجہ سے سننا چاہئے۔اس کے بعد میں دوستوں کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور رخصت ہوتا ہوں۔ا لو كان العلم معلقا بالثريا لتناوله قوم من ابناء فارس (الفضل ۲۹۔دسمبر ۱۹۳۶ء) ( کنز العمال جلدا اصفحه ۴۰۱ مطبوعه حلب ۱۹۷۴ء) وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التكوير : ١١)