انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 279

انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل ہوا۔حتی کہ آج اس جھگڑے کے وقت میں بھی اس کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں صاف تسلیم کیا ہے کہ پہلی دفعہ انہوں نے بادشاہ سے اکتوبر کے آخر میں بات کی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اگست کے سفر کے موقع پر وہ بالکل خاموش رہے۔وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اس کا باعث یہ تھا کہ بہت سے اخبارات کے کٹنگ ان کو بھجوائے گئے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے بہت پہلے ایسی چہ میگوئیاں شروع تھیں اور یقیناً وہ لوگ حالات سے واقف تھے جو شاہی دعوتوں میں مسز سمپسن کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔آخر یہ جھگڑا شروع ہوتا ہے بشپ آف بریڈ فورڈ کی ایک تقریر پر جس میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ بادشاہ کو مذہب کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔بشپ کا یہ کہنا تھا کہ شمالی انگلستان کے اخبارات نے سب سے پہلے شور مچایا اور پھر سارے انگلستان نے شور مچانا شروع کر دیا کہ بشپ آف بریڈ فورڈ نے مسٹر سمپسن کی شادی کے متعلق اشارہ کیا ہے اور اس معاملہ کے متعلق سختی سے جرح شروع کر دی گئی۔لطیفہ یہ ہے کہ بشپ آف بریڈ فورڈ نے اس مفہوم کا انکار کیا لیکن یہ مخالف اخبارات برابر شور مچاتے گئے کہ نہیں بشپ صاحب اب جھوٹ بول رہے ہیں۔اصل میں انکا یہی مطلب تھا اور اس سے بھی زیادہ لطیف بات یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں ان کی تعریف بھی کی جا رہی تھی کہ بشپ صاحب نے دلیری میں کمال کر دیا کہ ملک کو اس کی ایک اہم ذمہ واری کی طرف متوجہ کر دیا اور یہ بھی ساتھ کہا جا رہا تھا کہ ان کا بعد کا انکار غلط ہے اور اب وہ صرف پردہ ڈال رہے ہیں۔گویا دوسرے لفظوں میں وہ با وجود اعلی مذہبی پیشوا ہونے کے جھوٹ بول رہے ہیں۔کوئی نہیں سوچتا کہ یہ دلیری اور جھوٹ ایک ہی وقت میں کیونکر جمع ہو گئے۔جاننے والے جانتے ہیں کہ بشپ بے چارے نے جو کچھ کہا تھا سچ کہا تھا۔اس کا مطلب مسز سمپسن کی شادی کی طرف اشارہ کرنا نہ تھا بلکہ یہی تھا کہ بادشاہ معظم کو مذہب عیسوی کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔خدا بھلا کرے کرنل وجود ممبر پارلیمنٹ کا کہ انہوں نے عین پارلیمنٹ میں اس راز کو فاش کر دیا کہ مسٹر سمپسن کی شادی تو ایک اتفاقی امر تھا جو پیدا ہو گیا اصل سوال یہی تھا کہ بادشاہ عیسوی مذہب کے پوری طرح قائل نہیں ہیں۔چنانچہ جب پارلیمنٹ میں مسز سمپسن کی شادی کا مسئلہ زیر بحث تھا کرنل وجوڈ صاحب کھڑے ہوئے اور سادگی سے اصل بحث کے متعلق تقریر شروع کر دی اور صاف کہہ دیا کہ صاحبان تاج پوشی کی رسم پر اگر ہمارے پیارے بادشاہ نے مذہبی رسوم ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اس پر ناراضگی کی کوئی وجہ نہیں۔تاج پوشی کے معنی