انوارالعلوم (جلد 14) — Page 280
انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل صرف تاج پوشی کے ہیں، یہ کوئی مذہبی عبادت تو ہے نہیں کہ اگر آرچ بشپ آف کنٹر بری نے برکت نہ دی تو بس عبادت خراب ہو گئی۔اگر ہمارا بادشاہ مذہبی رسم کو غیر ضروری قرار دے کر اس سے منکر ہے تو اس پر اس قدر ناراضگی کی کوئی وجہ نہیں۔اور اگر کنٹر بری اور یارک کے آرچ بشپ اور ہمارے وزیر اعظم اس کو مذہبی ہتک خیال کرتے ہوئے کا رونیشن کی رسوم میں شامل ہونے سے انکار کریں تو ہمیں اس پر بھی بُرا منانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ ان کا اپنا کام ہے ہمارا حق نہیں کہ جبر کریں۔اور ان کی غیر حاضری کے معنی ہرگز یہ نہ لئے جائیں کہ وہ بادشاہ کے وفادار نہیں۔انہیں غیر حاضری کے باوجود یو نہی سمجھا جائے کہ گویا انہوں نے حلف وفاداری لے ہی لیا ہے۔غرض نہ تو ان رسوم کے ادا کرنے کے انکار پر بادشاہ سلامت کی تخت نشینی میں کوئی کمزوری سمجھی جائے اور نہ ان لوگوں کو باغی سمجھا جائے جو اپنے خاص مذہبی عقائد کی وجہ سے تاج پوشی کی رسم کی شمولیت کو پسند نہ کریں۔اس تقریر نے واقعات سے مل کر بالکل واضح کر دیا کہ مسز سمپسن کا واقعہ اصل متنازعہ فیہ امر نہ تھا یہ تو ناراضگی کے اظہار کا ایک اتفاقی موقع بہم پہنچ گیا اصل واقعہ یہ تھا کہ جب کار و نیشن کی رسوم کی تفصیل طے کرنے والی کمیٹی بیٹھی اور اس نے بادشاہ کے سامنے اپنی رپورٹ رکھی تو بادشاہ نے مذہبی رسم کا حصہ ادا کرنے سے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ میں اس پر یقین نہیں رکھتا اس لئے مجھے معذور سمجھا جائے۔جب یہ بات وزراء کو اور پادریوں کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے بُرا منایا اور بعض مذہبی وزراء نے اور پادریوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم پھر اس تقریب میں شامل نہ ہوں گے۔چنانچہ آرچ بشپ آف کنٹر بری نے صاف انکار کر دیا اور گو ہندوستان کے اخبارات میں یہ بات شائع نہیں ہوئی لیکن بیان کیا جاتا ہے کہ اس انکار پر سابق بادشاہ خود موٹر میں بیٹھ کر آرچ بشپ کو ملنے کیلئے گئے اور ان سے اصرار کیا کہ آپ کو میرے مذہبی عقیدہ سے کیا تعلق ہے تاج پوشی کی رسم ایک دُنیوی رسم ہے آپ اس میں شمولیت سے کیوں انکار کرتے ہیں مگر وہ اپنے اصرار پر قائم رہے جیسا کہ اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔انہی دنوں ملکہ میری سے بھی آرچ بشپ صاحب کی ایک لمبی ملاقات ہوئی تھی اور واقعات سے اگر نتیجہ اخذ کیا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس ملاقات کی غرض یا تو یہ تھی کہ آرچ بشپ صاحب ملکہ کے ذریعہ بادشاہ پر اثر ڈالنا چاہتے تھے یا ملکہ اپنے بیٹے کے حق میں آرچ بشپ صاحب کو راضی کرنا چاہتی تھیں۔بہر حال یہ ایک ناقابلِ تردید واقعہ ہے کہ مسٹر سمپسن کے ساتھ