انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxi of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxi

انوار العلوم جلد ۱۴ ہو ۲۵ تعارف کتب اس آہ کے نتیجہ میں وہ پیدا ہوا جو آج تم اس میدان میں دیکھ رہے۔۔آپ لوگ جو اس موقع پر موجود ہیں وہ اُن آہوں اور اُس گریہ وزاری کا نتیجہ ہیں جو اس جگہ پر اُن چندلوگوں نے کی تھی۔حضور نے جماعت کو نصیحت فرمائی۔پس آؤ کہ ہم میں سے ہر شخص اس نیت اور اس ارادہ سے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے کہ میں اس کی دُنیوی جنت کے لئے ایک کھلی اور ایک پیج بن جاؤں گا تا میں اکیلا ہی دنیا میں فنانہ ہو جاؤں بلکہ میری فنا سے ایسا درخت پیدا ہو جسے مجھ سے بہتر یا کم از کم میرے جیسے پھل لگنے لگیں۔وہ اڑھائی تین سو گٹھلیاں آج لاکھوں بن گئی ہیں اگر تم بھی اپنے آپ کو اسی طرح قربانیوں کے لئے تیار کر وتو ان لاکھوں گٹھلیوں سے کروڑوں درخت پیدا ہو سکتے ہیں“۔آخر میں حضور نے نہایت پُر سوز دعا کروائی۔نیز فرمایا کہ پہلے آواز پہنچانے کا مسئلہ تھا مگر اب لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ میلوں تک بیٹھے لوگوں تک آواز پہنچائی جاسکتی ہے اور یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان ہے۔فرمایا۔اور اب تو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسا دن بھی آ سکتا ہے کہ ہر مسجد میں وائرلیس کا سیٹ لگا ہوا ہو اور قادیان میں جمعہ کے روز جو خطبہ پڑھا جا رہا ہو وہی تمام دنیا کے لوگ سُن کر بعد میں نماز پڑھ لیا کریں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ اب حضور کی یہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔لمصل (۲۱) مستورات سے خطاب سید نا حضرت اصلح الموعود نے اپنے دور خلافت میں عورتوں کی علمی ، تربیتی اور روحانی ترقی پر بہت توجہ دی۔آپ مستورات کو مردوں کے شانہ بشانہ بلکہ بعض پہلوؤں سے اُن سے بڑھ کر دیکھنا چاہتے تھے۔جلسہ سالانہ ۱۹۳۶ ء کے موقع پر آپ نے مستورات کو اپنا علمی معیار بلند کرنے کی طرف خصوصیت سے توجہ دلائی تا وہ احمدیت کی امتیازی تعلیم اور دلائل سے آگاہ ہو کر جہاں غیروں میں تبلیغ کر سکیں وہاں ان کا اپنا یقین اور ایمان پختہ ہو۔