انوارالعلوم (جلد 14) — Page 107
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ہے کہ گویا ایک حصہ کو جماعتی قربانی سے نکال دیا گیا ہے۔مگر اس کی بھی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ اس چندہ کا اثر جماعت کے فرضی چندوں پر پڑے۔اگر ہر شخص کو اس چندہ کیلئے مجبور کیا جاتا اور ہر رقم قبول کر لی جاتی تو یہ چندہ تمام جماعت پر فرض ہو جا تا۔مگراب کم سے کم پانچ روپیہ چندہ دینے کی شرط رکھ کر میں نے اس کے دائرہ کو محدود کر دیا ہے۔اگر کسی شخص کے ذرائع وسیع ہیں اور وہ علاوہ دوسرے چندوں کے اس میں بھی حصہ لے سکتا ہے تو وہ اس میں شامل ہوگا۔ورنہ طبقہ غرباء میں سے کئی ایسے ہیں جو اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔پس یہ شرط عائد کر کے میں نے جماعتی قربانی سے بعض لوگوں کو نکالا نہیں بلکہ ایک طبقہ کو بچا لیا ہے کہ اس پر یہ بوجھ نہ پڑے تا کہ وہ فرضی قربانیوں سے بالکل ہی نہ رہ جائے۔اور گو وہ غرباء کا طبقہ ہے مگر جماعت میں اسی طبقہ کی اکثریت ہے۔چنانچہ ہماری جماعت گوخدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے مگر سات ہزار ایسے اشخاص تھے جنہوں نے چندہ تحریک جدید میں حصہ لیا۔اس کے علاوہ نوے ہزار یا ایک لاکھ کی اور جماعت جو چندہ دینے والی ہے اس سے باہر رہی۔پس چونکہ جماعت کا ایک کثیر حصہ ایسا ہے جس پر اس چندے کا بار نہیں پڑا اس لئے عقلاً صدرانجمن کے کاموں پر اس کا اثر نہیں ہونا چاہئے۔تو تحریک جدید میں ایک اصل میں نے یہ مدنظر رکھا ہے که طوعی قربانی کی روح میں جماعت میں تازہ کروں۔وہ لوگ جو صرف فرض نماز ادا کرتے ہیں اور نفلوں میں حصہ نہیں لیتے عموماً نماز میں انہیں جوش پیدا نہیں ہوتا اور وہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو انہیں رقت طاری نہیں ہوتی۔لیکن جو نفلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں انہیں نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور خاص جوش پیدا ہو جاتا ہے اسی لئے ائمہ دین ہمیشہ یہی ہدایت کیا کرتے ہیں کہ نوافل پڑھنے کبھی چھوڑنے نہیں چاہئیں۔اور وہ کہا کرتے ہیں کہ نوافل کو اللہ تعالیٰ نے مقرر ہی اس لئے کیا ہے کہ اگر فرائض میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو نوافل اُسے پورا کر دیں۔پس تحریک جدید سے ایک اصل میرے یہ مدنظر ہے کہ جماعت میں طوعی قربانی کی روح تازہ رہے۔دوسرا اصل اس تحریک سے میرے یہ مد نظر ہے کہ میں غربت اور امارت کا امتیاز مٹانا چاہتا ہوں۔مذہبی جماعتوں میں کبھی بھی غربت اور امارت کا امتیاز نہیں ہوا اور اگر ہوتو وہ مذہبی جماعت نہیں کہلا سکتی۔جب خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور تم میں سے وہی معزز ہے جو زیادہ متقی ہو۔تو اب بتاؤ کیا کوئی مومن خیال