انوارالعلوم (جلد 14) — Page 106
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ہے کہ تراویح کیلئے کتنا جوش ہوتا ہے بلکہ اس قدر پابندی سے لوگ تراویح پڑھتے ہیں کہ وہ تہجد کیلئے نہیں اُٹھتے مگر تراویح پڑھنے کیلئے چلے جاتے ہیں۔بلکہ تہجد پڑھ کر ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ کسی نے مٹھائی بانٹنی شروع کر دی ہو مگر تراویح کے ختم ہونے پر میں دیکھتا ہوں لوگ مٹھائیاں تک بانٹتے ہیں۔یہ بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے نماز پڑھنے والے کو نمازی کوئی نہیں کہتا لیکن اگر کوئی ایک دفعہ حج کر آئے تو اسے حاجی کہنے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح جو روزہ رکھتا اور ایک مہینہ مسجد میں تراویح پڑھتا ہے، وہ اپنے آپ کو اس بات کا مستحق سمجھنے لگ جاتا ہے کہ اتنا بڑا کام جب اس نے کیا ہے تو اب اس کا منہ میٹھا کرنا چاہئے۔غرض جو نفلی قربانیاں ہوں مگر ساتھ ہی جماعتی رنگ رکھتی ہوں وہ جماعت میں عظیم الشان بیداری پیدا کر دیا کرتی ہیں۔پس میں نے تحریک جدید میں پہلا اصل یہ مد نظر رکھا کہ طوعی اور نفلی قربانی جماعت کے سامنے رکھی جائے مگر وہ انفرادی نہ ہو بلکہ جماعتی ہوا اور ایسے رنگ میں تحریک ہو کہ ہر فرداگر چاہے تو اس میں شامل ہو سکے۔اس کے ساتھ ہی میں نے گسل کو دور کرنے کیلئے جیسے فوجی مشق ہوتی ہے، بعض تاریخیں مقرر کر دیں کہ اگر فلاں تاریخ تک وعدہ لکھا دو گے تو ہم تم سے چندہ لیں گے اور اگر اس کے بعد وعدہ لکھاؤ گے تو ہم اسے منظور نہیں کریں گے۔اگر میں ایک تاریخ مقرر نہ کرتا تو کوئی کہتا میں جنوری میں لکھاؤں گا، کوئی کہتا میں فروری میں لکھاؤں گا اور کوئی کہتا میں مارچ یا اپریل میں لکھاؤں گا اور اگر ایسا ہوتا تو جماعتی رنگ قائم نہ رہتا۔جماعتی رنگ قربانی میں اُسی وقت پیدا ہوسکتا تھا جب تاریخوں کی تعیین کر دی جاتی اور کہدیا جاتا کہ اتنے دنوں کے اندراندر وہ قربانی کا وعدہ پیش کر سکتے ہیں، اس کے بعد نہیں۔اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جیسے جماعت میں جلسہ کے ایام کے قریب آکر خاص جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ بے تابی کے ساتھ اس میں شامل ہونے کیلئے دوڑتی ہے اسی طرح جب چندہ کی خاص تاریخیں مقرر کر دی جائیں تو جماعت کے لوگوں میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر اس میں شامل ہونے کی سعی کرتے ہیں۔پس یہ قربانی جماعتی بھی ہے اور طوعی بھی۔میں نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کسی کو چندہ کیلئے مجبور کیا جائے۔میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر شخص تک تحریک جدید کی آواز پہنچا دو اور اس کے بعد اسے شمولیت کیلئے مجبور نہ کرو۔اگر وہ شامل ہوتا ہے تو شامل کر لو اور اگر نہیں ہوتا تو اسے شرمندہ نہ کرو۔میں نے اس چندہ میں کم سے کم پانچ روپیہ دینے کی شرط رکھی ہے۔جس سے یہ سمجھا جاتا