انوارالعلوم (جلد 14) — Page 82
انوار العلوم جلد ۱۴ اسلام اور احمدیت کے متعلق عظیم الشان پیشگوئی سے احمدیت کے حملہ سے محفوظ ہیں۔اسی طرح آج اہلحدیث نہیں کہہ سکتے کہ حدیثوں کے ذریعہ انہوں نے اپنی جماعت کو احمدیوں کے حملہ سے محفوظ کر لیا ہے۔آج شیعہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے اہل بیت کی محبت سے شیعوں کو ایسا مضمور کر دیا ہے کہ وہ احمدیت کی طرف توجہ نہیں کر سکتے۔اسی طرح ہندو سکھ اور عیسائی یہ نہیں کہہ سکتے کہ احمدیت ان میں سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ ہر ملت ہر فرقہ ہر دین اور ہر مذہب کے لوگ احمدیت کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں اور خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کو پورا کر رہا ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔یہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان نشان ہے مگر ایسا ہی نشان جیسا کہ مٹھائی والا اپنی مٹھائی کا نمونہ چکھاتا ہے جس سے اُس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ اچھی چیز ہے اسے حاصل کرو، اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے رحم اور کرم سے ہر قوم ہر مذہب اور ہر ملک کے کچھ کچھ لوگ ہمیں دیئے جس سے ظاہر ہے کہ احمدیت کے مقابلہ کی دنیا میں کسی کو تاب نہیں۔احمدیت جس قوم پر بھی حملہ آور ہوتی ہے ، وہ مجبور ہو جاتی ہے کہ اپنے قلعوں کی گنجیاں اس کے حوالے کر دے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ہماری محنتیں اور ہماری کوششیں ہرگز ضائع نہ ہونگی۔اگر ہم صحیح طور پر کوشش کریں اور صحیح رنگ میں اسلام کی تبلیغ میں لگ جائیں تو پھر ہر قوم ہمارا شکار ہے اور ہر قلب کی کھڑکیاں ہمارے لئے کھلی ہوئی ہیں۔پس ہماری ذمہ داری نہایت عظیم الشان ہے۔ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے نشانوں سے ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ نے ہمیں اس کام پر لگایا ہے کہ روٹھی ہوئی مخلوق کو منا کر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر لے آئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا کہ ایسا جنگل ہو جس میں سے پیدل چل کر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو، جہاں پانی نہ ہو، کھانے کا کوئی سامان نہ ہو وہاں ایک ایسا شخص ہو جس کا اونٹ گم ہو گیا ہو وہ اسے چاروں طرف تلاش کرتا پھرے لیکن آخر مایوس ہو کر بیٹھ جائے کہ اب سواری نہیں مل سکتی اور اب میں یہاں ہی ہلاک ہو جاؤں گا اُس وقت وہ دیکھے کہ سامنے اُس کا اونٹ کھڑا ہے تو بتاؤ وہ کتنا خوش ہوگا۔صحابہ نے کہایا رَسُول اللہ ! وہ بے انتہا خوش ہوگا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسا شخص اونٹ کو پا کر جس قدر خوش ہوتا ہے خدا تعالیٰ اس سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جب اس کا کوئی بھولا بھٹکا بندہ اس کے پاس آتا ہے۔سے قیاس کرو تم کسی جگہ کسی کا گمشدہ بچہ پاؤ اُسے اُٹھا کر لے آؤ۔اس کے گھر کے پاس پہنچو تو