انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 552

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر مطابق فیصلہ کرے۔اس کے مقابلہ میں جو لوگ مستقل رہے ان کی یہ حالت تھی کہ حضرت علی خطبہ پڑھانے کیلئے آئے تو وہ ایک جوش کی حالت میں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے حضرت علیؓ سے کہا کہ ہم آپ کی دوبارہ بیعت کرتے ہیں اور اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ جس کے آپ دوست ہوں گے اس کے ہم دوست ہوں گے اور جس کے آپ دشمن ہوں گے اس کے ہم دشمن ہوں گے۔جب انہوں نے یہ کہا تو حروری کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا اہلِ شام اور تم دونوں کافر ہو کیونکہ تم انسانوں کی فرمانبرداری کا گلی وعدہ کرتے ہو اور یہ بے دینی اور شرک ہے۔اس پر ایک شخص نے ان کو جواب دیا کہ یہ تو تمہاری شرارت کے جواب میں کہا گیا ہے۔ورنہ علی نے تو ہم سے یہی بیعت لی ہے کہ کتاب وسنت پر عمل ہو گا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ هُوَ عَلَى الْحَقِّ وَالْهُدَى وَ مَنْ خَالَفَهُ ضَالٌ مُضِلّ ٢٢ کہ آپ صداقت اور ہدایت پر ہیں اور جو شخص آپ کی خلافت کا مخالف ہے وہ گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے۔جب یہ فتنہ بڑھنے لگا تو حضرت علیؓ نے حضرت عبداللہ بن عباس کو خوارج کو سمجھانے کیلئے مقرر کیا اور انہیں حکم دیا کہ بحث نہ کریں مگر حضرت عبداللہ بن عباس میں کچھ جوانی کا جوش تھا اور کچھ وہ اپنے آپ کو فقیہ بھی سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ میں کسی سے کیا کم ہوں۔جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں کے اعتراضوں سے کچھ پریشان سے ہو گئے اور دلیل دینے لگے۔حضرت علی کا نقطہ نگاہ تو یہ تھا کہ میں نے کمیشن مقرر نہیں کرایا بلکہ تم نے کمیشن مقرر کرایا ہے۔اور تم ہی اس پر اصرار کرتے تھے مگر حضرت عبداللہ بن عباس کے سامنے جب انہوں نے کمیشن کا معاملہ پیش کیا اور کہا کہ ہم علی کی کس طرح اتباع کر سکتے ہیں جبکہ اُس نے دین کے معاملہ میں کمیشن مقرر کر دیا حالانکہ دینی امور کا فیصلہ انسان نہیں کیا کرتے بلکہ خدا فیصلہ کیا کرتا ہے۔تو وہ کہنے لگے بعض امور میں کمیشن بٹھانا جائز بھی ہوتا ہے۔دیکھو قرآن کریم میں آتا ہے کہ احرام کی حالت میں اگر کوئی عمد أشکار کرے تو دو حکم مقرر کئے جائیں اور وہ ایسا ہی جانور اس سے قربانی دلائیں یا اس شکار کی قیمت کا کھانا مساکین کو کھلایا جائے یا روزے رکھے جائیں۔اس پر خوارج کہنے لگے اچھا اچھا خلافت کا معاملہ گویا خرگوش یا بکری کے برابر ہو گیا۔اتنے میں حضرت علی بھی وہاں پہنچ گئے اور آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے فرمایا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ ان لوگوں سے بحث نہ کرنا دیکھا بحث کا کیا نتیجہ نکلا۔پھر حضرت علیؓ ان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا اے لوگو! سنو، کیا میں نے تم کو اس تحکیم سے