انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 551

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر تراق سے اس کے سر پر مارنا شروع کر دیا اور کہا کمبخت ! روٹی تو تو منہ سے کھاتا ہے تیری داڑھی کیوں ہلتی ہے؟ پس جس طرح وہ بڑھا کبھی کوئی بہانہ تلاش کرتا تھا اور کبھی کوئی۔یہی حال خوارج کا تھا۔جب انہوں نے کمیشن کا مطالبہ کیا اور حضرت علیؓ نے انکار کیا تو کہنا شروع کر دیا کہ دیکھا یہ قرآن نہیں مانتے۔شامیوں نے اپنے نیزوں پر قرآن اُٹھائے ہوئے ہیں اور یہ اپنی بات پر ضد کئے ہوئے ہیں۔اور جب کمیشن کا تقرر تسلیم کر لیا تو کہنا شروع کر دیا کہ دین کے معاملہ میں کمیشن کیسا ہم کوئی کمیشن کے تابع ہیں کہ اس کی بات مان لیں؟ یہی حال میں سمجھتا ہوں مصری پارٹی کا بھی ہے۔میں نے تو حضرت علی کے واقعات دیکھتے ہوئے کمیشن کا تقر ر تسلیم ہی نہیں کیا لیکن اگر میں تسلیم کر لیتا تو پھر یہی لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے کہ جب خود انہوں نے کمیشن تسلیم کر لیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں خود بھی مشبات ہیں ورنہ دین کے معاملہ میں کمیشن کیسا۔غرض معاہدہ لکھا گیا اور لشکر ایسی حالت میں کوٹا کہ اس میں لڑائی تھی اور بغض ظاہر تھا۔ایک کہتا جب انہوں نے قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا تو اس کے بعد اور کیا رہا پس یہی طریق فیصلہ تھا کہ لڑائی بند کی جاتی اور ایک ایسا کمیشن مقرر کیا جاتا جو کتاب اللہ کے ماتحت ہمارے درمیان فیصلہ کرتا۔دوسرا کہتا کہ خدا کی باتوں میں کسی انسان کا فیصلہ ماننے کے کیا معنی ہیں کیا خدا تعالیٰ کے احکام کے بارے میں بھی آدمیوں میں فیصلے ہوا کرتے ہیں۔آخر اسی بحث و تمحیص میں جب حضرت علی کوفہ میں پہنچے تو وہ لوگ جو تحکیم کے مخالف ہو گئے تھے وہ کوفہ میں داخل نہ ہوئے بلکہ حضرت علیؓ کے لشکر سے الگ ہو کر حروراء میں چلے گئے۔وہ بارہ ہزار آدمی تھے ان سب نے کہا کہ ہم علی کے ساتھ جانے کیلئے تیار نہیں جو دین کے معاملہ میں آدمیوں کا فیصلہ ماننے کیلئے تیار ہو گیا۔پھر انہوں نے کہا کہ امیر جنگ شبت بن ربعی امیمی ہوگا۔آمِيرَ الصَّلوةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْكُوا الْيَشْكُرِيُّ وَالامُرُ شُورَى بَعْدَ الْفَتْحِ وَالبَيْعَةُ لِلَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَالَّا مُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهَى عَنِ الْمُنكَرِ ال یعنی معاملات کو مشورہ سے طے کیا جائے گا۔بیعت خدائے عَزَّ وَجَلَّ کی ہوگی اور ہمارا کام نیک باتوں کا حکم دینا اور بُری باتوں سے روکنا ہوگا۔کوئی شبہ کر سکتا ہے کہ شاید یہ لوگ جو تحکیم کے مخالف تھے یہ کوئی اور تھے اور جنہوں نے تحکیم کی تائید کی تھی وہ کوئی اور ہوں گے۔مگر تاریخ سے ایک اور ایک دو کی طرح ثابت ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ضرور فیصلہ اسی طرح ہونا چاہئے کہ ایک کمیشن مقر ر ہو جو قرآن کے 66