انوارالعلوم (جلد 14) — Page 550
انوار العلوم جلد ۱۴ کچھ کریں گے وہ ہمیں منظور ہوگا۔مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر حضرت علیؓ نے کہا میں نے تو تمیں پہلے کہ دیا تھا اور اس تحکیم سے روکا تھا۔وہ کہنے لگا تو پھر زور سے ہمیں روکا کیوں نہیں؟ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ اگر ہم جھوٹ کی تائید کریں گے تو تم بھی تائید کر دو گے؟ میں اس واقعہ سے بھی سمجھتا ہوں کہ ان دونوں لشکروں کی ضرور آپس میں سازش تھی کیونکہ پہلے انہوں نے یہ شور مچایا کہ کمیشن مقرر کر و۔اگر کمیشن مقرر نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے راز فاش ہونے سے ڈرتے ہو اور جب ان کے اصرار پر کمیشن مقرر کر دیا گیا تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کیا ہم نے ان دونوں کے ہاتھ میں اپنے ایمان بیچ دیئے ہیں دین کے معاملہ میں تحکیم کیسی ؟ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بوڑھا شخص تھا جس کی یہ عادت تھی کہ وہ شادیاں کرتا اور پھر معمولی سی بات پر عورت کو طلاق دے کر الگ کر دیتا اور اس کا جو کچھ مال ہوتا وہ اپنے قبضہ میں کر لیتا۔وہ پہلے ہی مالدار تھا مگر اس طریق سے اس کے پاس اور بھی زیادہ مال جمع ہو گیا اور لوگ بھی اس لالچ میں کہ اگر گل یہ بڑھا مر گیا تو مال ہمیں مل جائے گا اس سے اپنی لڑکیاں بیاہ دیتے مگر وہ تھوڑے ہی دنوں میں طلاق دے دیتا۔آخر ایک عورت نے جو بڑی چالاک تھی اس سے شادی کی چند دن تو گزرے مگر آخر اس نے چاہا کہ اسے بھی طلاق دے دے لیکن اسے کوئی نقص معلوم نہ ہوا اور عورت نے ایسی عمدگی سے گھر کا کام چلایا کہ وہ کوئی نقص معلوم نہ کر سکا۔ایک دن وہ سخت تنگ آ گیا اور کہنے لگا یہ مرتی بھی نہیں اور اس کے کام میں کوئی نقص بھی نہیں ہوتا کہ اسے طلاق دوں، کیا کروں۔مگر پھر تھوڑی دیر کچھ سوچ کر باورچی خانہ میں چلا گیا اور اپنی عورت سے کہنے لگا آج میں یہیں کھانا کھاؤں گا۔اس نے کہا شوق سے بیٹھے اور کھانا کھائیے۔وہ وہیں بیٹھ گیا اور عورت نے پھلکے پکانے شروع کر دیئے۔یہ دیکھ کر وہ بڑھا کھڑا ہو گیا اور اس نے جوتا ہاتھ میں لیکر اس کے سر پر مارنا شروع کر دیا اور کہا یہ خباثت؟ روٹیاں تو تو ہاتھ سے پکاتی ہے گہنیاں کیوں ہلتی ہیں؟ وہ عورت تھی بڑی ہوشیار کہنے لگی صاحب ! آپ خاوند اور میں بیوی۔جوتی جس وقت چاہیں ماریں مگر دیکھیں غصہ سے معدہ خراب ہوتا ہے اور آپ کی عمر ایسی نہیں کہ معدہ کی کوئی تکلیف آپ برداشت کر سکیں۔آپ کھانا کھا لیجئے۔کھانا کھانے کے بعد جتنا چاہیں مجھے مار لیں۔خیر یہ بات اُس کی سمجھ میں بھی آگئی اور اس نے دل میں یہ خیال کر لیا کہ چلو ایک حق تو قائم ہو ہی گیا ہے بعد میں اسے مار لیں گے۔چنانچہ اُس نے روٹی کھانا شروع کر دی مگر ابھی اُس نے چند تھے ہی کھائے تھے کہ عورت نے اُچک کر جو تا اُٹھایا اور