انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 508

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر بھی طریق ہے کہ وہ امراء کو اپنے اخباروں کا زبردستی وی پی کر دیتے ہیں اور اپنا خط لکھ دیتے ہیں کہ آپ جیسے قوم پر ور اصحاب سے توقع ہے کہ ہمارے اخبار کا وی پی وصول کر کے ہماری امداد فرمائیں گے۔چنانچہ میرے نام بھی اس قسم کے اخبارات والے زبر دستی وی پی کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی لکھ دیتے ہیں کہ جناب کی خدمت میں اخبار آ رہا ہے جناب سے توقع ہے کہ آپ اخبار کا وی پی وصول فرما کر ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں گے۔یوں وہ مجھے گالیاں دیں گے اور کافراور جھوٹا کہیں گے مگر جب اخبار کا وی پی کریں گے تو یہ لکھ دیں گے کہ امید ہے کہ جناب وی پی وصول کر کے ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں گے غرض اسی طرح وہ اخبارات چل رہے ہیں۔یورپ میں البتہ اور کیفیت ہے وہاں اخبارات سرمایہ پر چلتے ہیں گو کچھ طبقہ وہاں بھی اسی قسم کے گزارے کرتا ہے۔پس یہ بالکل غلط خیال ہے کہ اخبار والے پندرہ بیس روپے سالانہ قیمت لے کر کچھ کما رہے ہوتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ پندرہ ہیں روپے لیتے ہیں اور پچھیں تھیں روپے ان کے خرچ ہوتے ہیں۔جو چھوٹے اخبار ہیں انہیں تو صرف ایک کلرک کی تنخواہ بچتی ہے جو اس وجہ سے کہ وہ آپ ہی سب کام کرتے ہیں اور کوئی زائد کلرک نہیں رکھتے۔خود لے لیتے ہیں اس سے زیادہ انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔میں اُمید کرتا ہوں کہ دوست خاص طور پر اس طرف توجہ کریں گے اور جماعتوں کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ صاحبان کوئی ایسا مؤثر قدم اُٹھائیں گے جس کی وجہ سے ہمارے اخبارات و رسائل کی زندگی معرض خطر سے نکل جائے۔ایک بات جس کی طرف میں نے اس سال جماعت کو خصوصیت سے توجہ دلائی ہے اور وہ اتنی اہم ہے کہ جتنی بار اس کی اہمیت کی طرف جماعت کو متوجہ کیا جائے کم ہے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات اور آپ کے کلمات صحابہ سے جمع کرائے جائیں۔ہر شخص جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی یاد ہو اُس کا اس بات کو چھپا کر رکھنا اور دوسرے کو نہ بتانا یہ ایک قومی خیانت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں مگر کئی چھوٹی باتیں نتائج کے لحاظ سے بہت اہم ہوتی ہیں۔اب یہ کتنی چھوٹی بات ہے جو حدیثوں میں آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک دفعہ کدو پکا تو آپ نے شوق سے شور بہ میں سے کدو کے ٹکڑے نکال نکال کر کھانے شروع کر دیئے یہاں تک کہ شور بہ میں کدو کا کوئی ٹکڑا نہ رہا اور آپ نے فرمایا کہو بڑی اعلی چیز ہے۔۔اب بظاہر یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے ممکن ہے کئی احمدی بھی سُن کر کہہ دیں کہ کہو کے ذکر کی کیا ضرورت تھی ؟ مگر اس چھوٹی