انوارالعلوم (جلد 14) — Page 5
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھا ئیں گے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں جن پر سے اس دن نور اُڑ گیا اور رونق کا فور ہوگئی ، اُن پر افسردگی کے بادل چھا گئے ، اُن کے ہونٹ خشک تھے اور وہ گھبراہٹ میں یہ سوال کرتے تھے کہ اب کیا ہوگا ؟ میرے کان ان آوازوں کو اب بھی سن رہے ہیں غیر احمد یوں کی نہیں بلکہ احمد یوں کی آوازوں کو جو ایک دوسرے سے کہتے پھرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کیا ہوئے ؟ اور وہ پیشگوئیاں کہاں گئیں؟ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمنوا ہو کر گھبراہٹ کا اظہار الفاظ میں کرتے تھے لیکن اس خطر ناک ابتلاء کے باوجود اکثر حصہ محفوظ رہا اور وہ طوفان جو معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کو بہا کر لے جائے گا اور جو اِس زور سے حملہ آور ہوا تھا کہ معلوم ہوتا تھا اس کے آگے زمین ایک چھلکے کی طرح ٹوٹ جائے گی، جب قریب آیا تو اس میں صبح کی ٹھنڈی ہوا سے زیادہ کوئی شدت نہ تھی اور جماعت کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے بالکل محفوظ رکھا اور وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گئے۔پھر جماعت پر اُس وقت ابتلا آیا جب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی وفات کے بعد پیغامی فتنہ اُٹھا اور جماعت کے اعلیٰ کا رکن علیحدہ ہو گئے ، خزانہ خالی تھا اور جماعت کا بیشتر حصہ اُن کے ساتھ تھا۔اُس وقت بھی اکثر لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ اب یہ کام کس طرح چلے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس مایوسی کی حالت کو دیکھ کر مجھے بتایا کہ خدا تعالیٰ کے کام کو کوئی نہیں روک سکتا اور جو مقابل پر کھڑے تھے ان کے متعلق بتایا کہ لَيُمَزِ قَنَّهُمُ یعنی ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور کامیابی انہیں حاصل ہوگی جو میرے ساتھ ہیں۔میں نے اُسی وقت اس اعلان کو شائع کر دیا۔ان لوگوں نے اسے پڑھا اور دیکھا اور مسکرائے اور سر ہلا کر کہا ہم یہاں سے جاتے ہیں مگر اسی زمین کی طرف اشاہ کرتے ہوئے جہاں اس وقت جلسہ ہو رہا ہے کہا کہ دس سال کے عرصہ میں اس جگہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گا لیکن اب دس نہیں ہیں بلکہ اکیس سال گذر چکے ہیں اور ۱۴ مارچ سے بائیسواں سال شروع ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں مسلمانوں کا ہی قبضہ ہے بلکہ یہ قبضہ بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اگر چہ دشمن کا یہ اعتراض صحیح نہیں اور محض ہمیں بد نام کرنے کے لئے کیا جارہا ہے لیکن وہ کہہ ضرور رہا ہے کہ قادیان میں حکومت کے اندر ایک اور حکومت ہے بلکہ یہاں تک کہہ رہا ہے کہ یہاں حکومت برطانیہ کی نہیں بلکہ احمدیوں کی ہے۔آج سے اکیس سال پہلے مخالف میرے متعلق کہتے تھے کہ یہ بچہ ہے یہ کام کیا کر سکتا ہے؟ دس سال میں یہاں عیسائی مشنریوں کا قبضہ ہو جائے گا لیکن آج مخالف یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں عیسائی حکومت ہے ہی نہیں بلکہ احمد یوں کی حکومت ہو گئی ہے۔گوان کا یہ بیان درست نہیں ہم حکومت کے فرمانبردار ہیں لیکن اس سے یہ