انوارالعلوم (جلد 14) — Page 359
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (1) تکمیل کے لئے پھر مختصراً اسے دُہرا دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَيُعَلّمه الكتب وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَةَ وَالْإِنْجِيلَ - وَرَسُوْلًا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ - أَنِّى قَدْ جِئْتُكُمْ بِايَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيْهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ۔۳۶ یعنی ہم نے مریم کو الہام کیا کہ ہم تجھے ایک بیٹا عطا کریں گے جسے اللہ تعالیٰ کتاب اور حکمت کی باتیں سکھائے گا اور بنی اسرائیل کی طرف اُسے اس پیغام کے ساتھ رسول بنا کر بھیجے گا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے یہ نشان لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے فائدہ کیلئے پانی ملی ہوئی مٹی یعنی طینی خصلت رکھنے والوں میں سے پرندہ کے پیدا کرنے کی طرح ایک مخلوق تجویز کروں گا۔پھر میں اُس میں ایک نئی روح پھونکوں گا جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُڑنے والے ہو جائیں گے۔دوسری جگہ فرماتا ہے وَاذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَةَ وَ الْإِنْجِيْلَ وَاذْتَخْلُقُ مِنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِى فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِی ۳۷ یعنی اللہ تعالیٰ حضرت مسیح سے فرمائے گا کہ تو اُس وقت کو بھی یاد کر جب کہ میں نے تجھے کتاب اور حکمت سکھائی اسی طرح تو راۃ اور انجیل سکھائی اور اُس وقت کو بھی یاد کر جبکہ تو میرے حکم سے طینی خصلت رکھنے والے افراد میں سے پرندہ کے پیدا کرنے کی طرح ایک مخلوق تجویز کرتا تھا پھر تو اُس میں پھونک مارتا تھا جس سے وہ میرے حکم سے اُڑنے کے قابل ہو جا تا۔اب یہاں دونوں جگہ پرندے کا ذکر آتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ استعارہ ہے یا حقیقت؟ اگر حقیقتاً پرندہ مان کر کوئی دوسری آیت باطل ہوتی ہے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ استعارہ ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم قرآن کی اور آیات پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ایک آیت ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ اَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللهُ خَالِقُ كُلّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ٣٨ یعنی کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ایسے شریک تجویز کئے ہیں جنہوں نے اُس جیسی کچھ مخلوق پیدا کی ہے جس کی وجہ سے اُس کی اور دوسروں کی پیدا کردہ مخلوق آپس میں مل گئی ہے اور ان کیلئے مشتبہ صورت پیدا ہوگئی ہے۔تو اُن سے کہہ دے کہ اللہ ہی ہر ایک چیز کا خالق ہے اور وہ کامل طور پر یکتا اور ہر ایک چیز پر کامل اقتدار رکھنے والا ہے۔اب دیکھو! اس آیت میں اللہ تعالی صاف طور پر فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو خدا کا شریک قرار دیا جاتا ہے اور جن کے متعلق لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی اپنے اندر صفت خلق