انوارالعلوم (جلد 14) — Page 345
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) رہے ہیں۔اُن کے پتے بھی تسبیح کر رہے ہیں۔آم بھی تسبیح کر رہا ہے۔کیلا بھی تسبیح کر رہا ہے بلکہ کیلے کا چھلکا جس کو ہم اُتار کر پھینک دیتے ہیں وہ بھی تسبیح کر رہا ہے۔روٹی بھی تسبیح کر رہی ہے۔تھائی بھی تسبیح کر رہی ہے۔جب تم چائے پیتے ہو تو تمہارے ہونٹ بھی تسبیح کر رہے ہوتے ہیں۔چائے بھی تسبیح کر رہی ہوتی ہے۔مصری یا کھانڈ بھی تسبیح کر رہی ہوتی ہے۔پیالی بھی تسبیح کر رہی ہوتی ہے۔پرچ بھی تسبیح کر رہی ہوتی ہے۔اسی طرح مکان بھی ، چھت بھی ، دیوار میں بھی ، دروازے بھی ، وہ بستر جس پر تم لیٹتے ہو اس بستر کی چادر بھی اور تو شک اور رضائی بھی سب سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کہہ رہی ہوتی ہیں اور جب ہر چیز سُبْحَانَ اللہ کہہ رہی ہے تو حضرت داؤد کے لئے اگر یہی الفاظ آجائیں تو اس کے نئے معنی کیوں بن جاتے ہیں۔دیکھ لو وہ دونوں باتیں جو حضرت داؤد کے متعلق کہی گئی تھیں ہمارے لئے بھی موجود ہیں۔ہمارے لئے بھی خدا کہتا ہے کہ میں نے ہر چیز مسخر کر دی اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہر چیز تسبیح کر رہی ہے۔بلکہ حضرت داؤد کیلئے تو صرف یہ کہا گیا ہے کہ پہاڑ اور پرندے تسبیح کرتے تھے مگر ہمارے لئے تو یہ کہا گیا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب تسبیح کرتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تسبیح سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز یہ ثابت کر رہی ہے کہ خدا بے عیب ہے۔چونکہ اسلام نے دنیا بھر سے عیب دُور کرنے تھے اس لئے مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ تسبیح کر رہا ہے لیکن حضرت داؤد نے چونکہ صرف جبال سے عیب دور کرنے تھے اور وہ ساری دنیا کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے بلکہ ایک محدود مقام کی طرف تھے اس لئے حضرت داؤد کے زمانہ میں صرف جبال نے تسبیح کی۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سارے جہان کی طرف تھے اس لئے آپ نے فرمایا۔جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا ، زمین کا ایک ٹکڑا بھی ایسا نہیں جو تسبیح نہیں کر رہا۔اس لئے ہم جہاں جائیں گے وہ مسجد بن جائے گی ، پس يُسَبِّحُ لله والے مضمون کو داؤد کے مضمون میں محدود کر کے صرف پہاڑوں تک رکھا گیا۔اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ کے لئے تھے اور حضرت داؤ د صرف چند جبال کیلئے۔باقی رہا اوبِي مَعَهُ کے الفاظ سے یہ استدلال کہ پہاڑ حضرت داؤد کے ساتھ ان کی تسبیح میں شامل ہو جاتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل دنیا کا ذرہ ذرہ تسبیح میں شامل ہے۔کوئی کہے کہ پھر حضرت داؤد کی خصوصیت کیا رہی ؟ تو یا درکھنا