انوارالعلوم (جلد 14) — Page 307
انوارالعلوم جلد ۱۴ ۱۸ مستورات سے خطاب نرت صاحب کی اس قدر تعریفیں لکھی ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں۔وہ اپنے رسالہ میں لکھتا ہے کہ یہ شخص ایسا ولی اللہ ہے کہ اس نے جو خدمات دین کی کی ہیں تیرہ سو سال میں کسی نے نہیں حالانکہ دیکھو اس تیرہ سو سال میں بڑے بڑے صلحاء، فضلاء، اولیا ءلوگ گزرے ہیں اس کی نظر میں ان سب سے بڑھ کر حضرت صاحب تھے لیکن دعوئی کے بعد اس نے جو مخالفت کی ہے اس میں بھی سب سے بڑھ کر رہا۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ دعوئی سے پہلی زندگی دیکھتے ہیں بعد میں تو رسول کریم ﷺ کو بھی دشمنوں نے بہت بُرا بھلا کہا لیکن بعد کی باتیں دشمنی کی ہوتی ہیں گواہی تو دشمنی سے پہلے کی ہوتی ہے۔یہ تینوں باتیں ہیں جن میں قرآن مجید ہمارے ساتھ ہے۔ایک لطیفہ ہے میاں نظام الدین صاحب ایک سادہ لوح، نیک اور متقی آدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں۔میں چھوٹا بچہ تھا ان کو چائے کی بہت عادت تھی وہ کیا کرتے کہ چائے کی خشک پتی منہ میں رکھ لیتے اور پھر جب پانی ملتا تو گرم پانی اوپر سے پی لیتے۔وہ محمد حسین بٹالوی کے دوست تھے اور حضرت صاحب کے بھی۔محمد حسین نے ان سے کہا کہ حضرت صاحب نے تو ایسا دعویٰ کیا ہے تو ان کو یقین نہ آیا اور کہنے لگے کہ مرزا صاحب تو بہت نیک آدمی ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں؟ حضرت صاحب نے فرمایا کہ قرآن میں اس طرح ہے۔وہ کہنے لگے کہ قرآن میں تو لکھا ہے وہ زندہ ہیں حضرت صاحب نے کہا قرآن ہمارا حاکم ہے اگر آپ قرآن سے ایک آیت بھی لے آئیں تو ہم مان لیں گے کہ حضرت عیسی زندہ ہیں۔نظام الدین کہنے لگے کہ میں پچاس آیتیں ایسی لے آؤں تو پھر تو آپ مان لیں گے؟ حضرت صاحب نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ اگر تم ایک آیت بھی لے آؤ گے تو میں مان لوں گا۔کہنے لگا کہ میں جاتا ہوں اور ہیں آیتیں محمد حسین سے لکھوا لاتا ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ایک ہی لے آئیں تو ہم مان لیں گے وہ کہنے لگا کہ اچھا میں آج ہی لاہور جاتا ہوں اور دس ہی لکھوا لاتا ہوں۔وہ لاہور گئے۔اُن دنوں میں حضرت خلیفہ اول بھی لاہور کسی کام کو آئے ہوتے تھے۔لوگوں کا خیال تھا کہ مولوی محمد حسین اور حضرت خلیفہ اول کا مباحثہ ہو جائے۔مولوی محمد حسین کہتا تھا کہ مباحثہ حدیث سے ہوا اور حضرت خلیفہ اول کہتے تھے کہ قرآن سے ہو۔اتنے میں نظام الدین صاحب بھی لاہور پہنچے تو مولوی محمد حسین چینیاں کی مسجد میں بیٹھے تھے میاں نظام الدین جاتے ہی کہنے لگے مولوی صاحب! چھوڑ واس اشتہار بازی