انوارالعلوم (جلد 14) — Page 306
انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب غلاموں میں ایک زید بھی تھے یہ ایک بہت بڑے رئیس کے لڑکے تھے۔بچپن میں کوئی اُن کو پکڑ کر بیچ گیا تھا۔اُن کا باپ تمام جگہ اُن کی تلاش کرتا کرتا بہت سا روپیہ لے کر مکہ پہنچا اور کہا جس قدر آپ مال لینا چاہتے ہیں لے لیں اور لڑ کا ہمارے ساتھ کر دیں۔اس کی ماں دس سال سے روتی روتی اندھی ہوگئی ہے اور میں دس سال سے اس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں جا کر کہا۔لوگو! گواہ رہیو یہ آزاد ہے اور کہا کہ یہ تیرا باپ ہے اس کے ساتھ چلا جا۔دس سال سے اُس نے اپنا کاروبار چھوڑ کر تیری خاطر اپنی عمر کا ایک حصہ یوں برباد کیا ہے۔زیڈ نے کہا بے شک یہ میرا باپ ہے اور ایک مدت کے بعد ملا ہے اور اس نے میری خاطر بہت تکلیف اُٹھائی ہے اور کون ہے جس کو اپنے ماں باپ سے محبت نہیں ہوتی ، بے شک اس نے دس سال میری محبت کے پیچھے برباد کئے ہیں لیکن مجھ کو تو آپ کے سوا کوئی ماں باپ نظر نہیں آتا۔خیال کرو کہ آپ کو کس قدر انس تھا۔باپ روتا ہوا چلا جاتا ہے لیکن وہ آپکی جدائی پسند نہیں کرتا۔پس یہ تھا آپ کی دیانت، امانت ، صداقت، راستبازی کا حال۔آپ نے اعلانیہ فرمایا کہ اے لوگو! میں نے تم میں عمر گزاری ہے بتلاؤ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو کیا میں خدا پر ہی جھوٹ بولوں گا؟ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابو بکر سن کر فوراً ایمان لے آئے۔کہتے ہیں کہ جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق باہر گئے ہوئے تھے اور وا پس آتے ہوئے راستہ میں اپنے ایک دوست کے مکان پر ٹھہرے اور آپ اپنی چادر بچھا کر لیٹنے ہی لگے تھے کہ اس گھر کی لونڈی نے آ کر کہا افسوس تمہارا دوست پاگل ہو گیا اور کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر فر ماتے ہیں کہ وہ لیٹے بھی نہیں فوراً چادر سنبھال کر بیٹھ گئے اور رسول کریم اللہ کے گھر پہنچے اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کیا یہ درست ہے ؟ حضرت ابو بکر چونکہ آنحضرت ﷺ کے گہرے دوست تھے۔آپ کو یہ خیال تھا کہ کہیں ان کو ٹھوکر نہ لگ جائے آپ ان کو تسلی سے بتانا چاہتے تھے لیکن حضرت ابو بکڑ نے آپ کو قسم دے کر کہا کہ آپ صاف بتا ئیں۔آپ نے کہا درست ہے۔حضرت ابو بکر صدیق نے کہا پس آپ میرے ایمان کے گواہ رہیں اور کہنے لگے کہ آپ مجھ کو دلیلیں دے کر میرا ثواب کیوں کم کرتے ہیں۔کے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ علی کو دیکھا۔بعینہ یہی دلیل خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی۔آپ کے دعوئی سے پہلے محمد حسین بٹالوی نے اپنے ایک رسالہ میں براہین احمد یہ لکھنے کے بعد عليا