انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 291

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانه رب العزت میرے لئے اُس زمانہ کے لحاظ سے یہ اچنبھے کی بات تھی کہ کچھ لوگ جمع ہیں۔اُس فصیل پر ایک دری بچھی ہوئی تھی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے ہوئے تھے اور ار درگر دوہ دوست تھے جو جلسہ سالانہ کے اجتماع کے نام سے جمع تھے ممکن ہے میرا حافظہ غلطی کرتا ہو اور دری ایک نہ ہو ، دو ہوں لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ایک ہی دری تھی۔اُس ایک دری پر کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ڈیڑھ سو ہوں گے یا دوسو اور بچے ملا کر اُن کی فہرست اڑھائی سو کی تعداد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شائع بھی کی تھی۔وہ لوگ جمع ہوئے تھے اس نیت اور اس ارادہ سے کہ اسلام دنیا میں نہایت ہی کمزور حالت میں کر دیا گیا ہے۔اور وہ ایک ہی نور جس کے بغیر دنیا میں روشنی نہیں ہو سکتی اُسے بجھانے کیلئے لوگ اپنا پورا زور لگا رہے ہیں اور ظلمت اور تاریکی کے فرزند اسے مٹا دینا چاہتے ہیں۔اس ایک ارب اور چھپیں تھیں کروڑ آدمیوں کی دنیا میں دو اڑھائی سو بالغ آدمی جن میں سے اکثر کے لباس غریبا نہ تھے ، جن میں سے بہت ہی کم لوگ تھے جو ہندوستان کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی متوسط درجہ کے کہلا سکیں ، جمع ہوئے تھے اس ارادہ اور اس نیت سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا جسے دشمن سرنگوں کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، وہ اس جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دیں گے بلکہ اسے پکڑ کر سیدھا رکھیں گے اور اپنے آپ کو فنا کر دیں گے مگر اسے نیچا نہ ہونے دیں گے۔اس ایک ارب پچیس کروڑ آدمیوں کے سمندر کے مقابلہ کیلئے دو اڑھائی سو کمزور آدمی اپنی قربانی پیش کرنے کیلئے آئے تھے جن کے چہروں پر وہی کچھ لکھا ہوا تھا جو بدری صحابہ کے چہروں پر لکھا ہوا تھا۔جیسا کہ بدر کے صحابہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! بے شک ہم کمزور ہیں اور دشمن طاقتور مگر وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔اُن کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ انسان نہیں بلکہ زندہ موتیں ہیں جو اپنے وجود سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کے دین کے قیام کیلئے ایک آخری جد و جہد کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔دیکھنے والے اُن پر ہنستے تھے، دیکھنے والے اُن پر تمسخر کرتے تھے اور حیران تھے کہ یہ لوگ کیا کام کریں گے۔میں خیال کرتا ہوں وہ ایک دری تھی یا دو دریاں بہر حال اُن کیلئے اتنی ہی جگہ تھی جتنی اس سٹیج کی جگہ ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کیوں مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ دری تین جگہ بدلی گئی۔پہلے ایک جگہ بچھائی گئی اور تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے اُٹھا کر اُسے کچھ دُور بچھایا گیا ، تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے تبدیل کر کے ایک اور جگہ بچھایا گیا اور پھر تیسری دفعہ اُس جگہ سے