انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxvii
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۱ تعارف کتب خیالات پر چھا جانے کی کوشش کرنا ، اُس قوم کی اسلام پر ہنسی اور تمسخر کو حو صلے سے برداشت کرنا ہی دراصل قربانی ہے۔مثلاً جب وہ اسلامی پردہ ، تعدد ازدواج، عورتوں سے مصافحہ نہ کرنا اور اُن سے میل جول نہ رکھنے پر اعتراض کرتے ہیں تو بجائے منہ چھپانے کے یا مداہنت اختیار کرنے کے بڑی جرأت اور دلیری سے انہیں جواب دینا اور اسلامی تعلیم کی خوبیاں ثابت کرنا اور اس کے ساتھ عملاً اسلامی تعلیم ان میں رائج کرنا یہ حقیقی قربانی ہے جس کا تقاضا مبلغین سے کیا جاتا ہے۔تبلیغ کے سلسلہ میں آپ نے نصیحت فرمائی کہ مبلغین کے مدنظر محض بیعت کروانا نہ ہو بلکہ ایسے بچے اور صاف اور مخلص مسلمان بنانا مقصد ہو جنہیں وہ خدا کے حضور پیش کر سکیں۔اس لئے جو شخص کسی کو مسلمان بنانے میں اسلامی تمدن ، اسلامی احکام اور اسلامی اصول میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی نظر انداز کرتا ہے وہ خدا کے لئے لوگوں کو مسلمان نہیں بنا تا بلکہ اپنے نام اور اپنی شہرت کیلئے مسلمان بناتا ہے۔وہ کسی اجر کا مستحق نہ ہو گا خواہ اس راہ میں مارا جائے کیونکہ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ قربانی کس مقصد کی خاطر کی جارہی ہے۔ایسی تبلیغ جس کے نتیجے میں اسلامی تعلیم پر عمل نہیں ہوتا وہ اسلام کی فتح کو قریب نہیں کرتی بلکہ ڈور ڈال دیتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ہرنیا بننے والا مسلمان پہلے دن سے ہی تمام تعلیم پر عمل شروع کر دے۔ممکن ہے اُسے ایک دو یا تین ماہ لگیں مگر شروع سے ہی انہیں اسلامی تعلیم سے پوری طرح آگاہ کر دینا چاہئے۔حضور نے مغربیت کا مقابلہ کرنے کے لئے مبلغین کو خصوصیت سے توجہ دلائی فرمایا:۔یہاں سے جب بھی وہ نکلیں اس روح کو لے کر نکلیں کہ مغربیت کا مقابلہ کرنا ان کا فرض ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا کا واحد کا ہے۔دنیا کا واحد علاج اس وقت مغربیت کا کچلنا ہے۔جب تک ہم مغربیت کو کچل نہیں سکتے اُس وقت تک دنیا میں روحانیت قائم نہیں ہو سکتی“۔اسی ضمن میں حضور نے تحریک جدید کے مقاصد پر روشنی ڈالی کہ جماعت میں قربانی کی روح پیدا کرنے اور مغربیت کا مقابلہ کرنے کیلئے یہ تحریک جاری کی گئی ہے۔تحریک جدید کے بورڈنگ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو حضور نے خصوصیت سے تحریک جدید کو سمجھنے اور اس کی روح اپنے اندر پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا:۔یاد رکھو کہ تم تحریک جدید کے سپاہی ہو اور سپاہی پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔تمہارے نگرانوں کا فرض ہے کہ وہ تمہارے سامنے متواتر لیکچر دے کر