انوارالعلوم (جلد 14) — Page 178
انوار العلوم جلد ۱۴ اہالیانِ سندھ و کراچی کے نام پیغام مسولینی اور اُن کا سیکرٹری دونوں ہنس پڑے۔مجھے یہ عجیب بات معلوم ہوئی میں نے خاں صاحب سے کہا۔ان سے پوچھئے کہ یہ کیا بات ہے۔خان صاحب کے پوچھنے پر اُس نے کہا بتا ؤ یہ جو آپ کے امام ہیں انگریزی سمجھتے ہیں؟ خان صاحب نے کہا۔سمجھتے تو اچھی ہیں لیکن بولنے میں حجاب محسوس کرتے ہیں۔وہ کہنے لگا کہ بس اسی لئے ہم ہنسے ہیں۔کیونکہ آپ ان کی بات کا ترجمہ کر رہے تھے کہ فوراً انہوں نے روکا کہ آپ نے اس حصہ کا غلط ترجمہ کیا ہے اور پھر کہا کہ یہی حال مسولینی کا ہے وہ بھی انگریزی سمجھتا ہے لیکن بولنے میں حجاب محسوس کرتا ہے۔تو آج بھی میرے راستے میں وہی مشکل حائل ہے اس لئے میں معذرت کرتا ہوں کہ میں انگریزی میں تقریر نہیں کروں گا۔اس کے بعد میں ایک بات ایڈریس کی غلطی کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔ایڈریس میں بیان کیا گیا ہے کہ میں پہلی دفعہ حج کو جاتے ہوئے کراچی آیا تھا۔چونکہ پنجاب کے حاجی عموماً کراچی سے گزرتے ہیں۔اس لئے ہمارے ایڈریس پڑھنے والے دوست نے بھی فرض کر لیا کہ میں بھی کراچی سے گزرا ہوں گا۔حالانکہ میں ایک اٹیلین جہاز میں بمبئی سے مصر گیا تھا اور وہاں سے حج کے لئے مصری جہاز پر جدہ گیا۔اس کے بعد میں مختصر طور پر اپنے دوستوں کی خواہش کے مطابق اہلِ کراچی اور اہلِ سندھ کے نام ایک پیغام دیتا ہوں۔مگر چونکہ یہ تقریب کھانے کی تھی نہ کہ تقریر کی اس لئے میں اس امر کا خیال رکھوں گا کہ شامل ہونے والے احباب کا زیادہ وقت خرچ نہ ہو۔میرا پیغام یہ ہے کہ دنیا میں اختلاف کبھی نہیں مٹ سکتا۔جب ایک باپ کے دو بیٹوں کی شکلوں میں اختلاف ہوتا ہے تو یہ امید رکھنا کہ تمام دنیا کی طبائع ایک ہو جائیں اور سب اختلافات مٹ جائیں ناممکن ہے۔لیکن ایک چیز ہم کر سکتے ہیں مگر افسوس ہے کہ ہم کرتے نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اگر یقین کر لیں کہ ہمیں ایک خدا نے پیدا کیا ہے اور اس کے تعلقات ماں باپ کے تعلقات سے بھی زیادہ ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ با وجود اختلاف کے ہم ایک دوسرے سے مخلصانہ تعلقات نہ رکھ سکیں۔چونکہ اس مجلس میں صلى الله غیر مسلم احباب بھی شامل ہیں میں انہیں بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ ہمارے آنحضرت علی جنگ میں شامل تھے۔آپ پر مکہ والوں نے حملہ کیا تھا دورانِ جنگ میں ایک عورت جس کا بچہ کھویا گیا گھبرائی ہوئی دیوانوں کی طرح پھر رہی تھی۔اور وہ اپنے اس غم اور جستجو میں اس بات کو بُھول گئی تھی کہ لڑائی ہو رہی ہے اُسے دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے بعض صحابہ سے جو حضور کے صلى الله عليسة