انوارالعلوم (جلد 14) — Page 177
انوار العلوم جلد ۱۴ اہالیانِ سندھ و کراچی کے نام پیغام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اہالیانِ سندھ و کراچی کے نام پیغام اختلاف مذاہب کے باوجود تمدنی، علمی اور اقتصادی امور میں اتحاد ہو سکتا ہے ( تقریر فرموده ۱۷ فروری ۱۹۳۶ء بمقام کلا رنی ہوٹل کراچی لے مجھے سب سے پہلے ان احباب کا شکر یہ ادا کرنا ضروری ہے جنہوں نے اپنے کاموں کا حرج کر کے یہاں آنے کی تکلیف گوارا کی ہے پھر میں اس بات کی معذرت کرنا چاہتا ہوں کہ میں انگریزی میں نہیں بول سکوں گا۔اس مجلس میں بعض احباب ایسے ہیں جو اردو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے۔گومیں انگریزی سمجھ لیتا ہوں لیکن افسوس ہے کہ بولنے میں حجاب محسوس کرتا ہوں اور یہ میرے لئے ایک مشکل ہے جس میں سے مجھے کئی دفعہ گزرنا پڑا ہے۔چنانچہ ۱۹۲۴ء میں جب میں یورپ گیا تو سائز مسولینی کی ملاقات کے انتظام کے لئے جو ان دنوں بھی خاصی شہرت حاصل کر چکا تھا، میں نے خان ذوالفقار علی خان صاحب کو جو علی برادران کے بڑے بھائی ہیں اور اُن دنوں میرے چیف سیکرٹری تھے ، سفیر برطانیہ کے پاس بھیجا۔اُن دنوں ایک سوشلسٹ لیڈر کی لاش | برآمد ہوئی تھی جو کچھ مدت سے غائب تھا اور اس کی وجہ سے ملک میں سخت شورش اور بے چینی پیدا ہو رہی تھی۔اس لئے اُن دنوں مسولینی نے ملاقات بند کی ہوئی تھی۔لیکن اس خیال سے کہ میں ڈور سے آیا ہوں اور ایک جماعت کا امام ہوں انہوں نے ملاقات منظور کر لی جب میں اُن سے ملنے گیا تو خان ذوالفقار علی خان صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔وہ اٹیلین میں بات کرتا تھا اور اُس کا سیکرٹری انگریزی میں ترجمہ کر کے خان صاحب کو بتاتا تھا اور پھر خان صاحب مجھے اُردو میں ترجمہ کر کے بتاتے تھے۔میں اُردو میں بات کرتا تھا جس کا انگریزی ترجمہ کر کے خان صاحب مسولینی کے سیکرٹری کو بتاتے تھے وہ اٹیلین میں ترجمہ کر کے مسولینی کو سناتا تھا تھوڑی دیر کے بعد