انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 121

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت کی وجہ سے دوسرے کو حقیر نہ سمجھا کریں گے۔اس مقصد کے اور بھی بہت سے حصے ہیں مگر چونکہ میں اس پہلو کو لمبا نہیں کر سکتا ، اس لئے اسے چھوڑتا ہوں۔اس تحریک میں میں نے یہ مدنظر رکھا ہے کہ جماعت کے افراد کی علاوہ ساتواں مقصد جماعتی رنگ میں تربیت کرنے کے فردی تربیت کی جائے۔اور گوفردی تربیت چندوں سے بھی ہوتی ہے مگر تحریک جدید میں میں نے ایسے بہت سے اصول رکھے ہیں جن پر عمل کرنے سے فردی تربیت ہوتی اور نفس کا رکبر ٹوٹتا ہے۔کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس تحریک کے ماتحت کام کر کے بتایا کہ پہلے ہمیں خیال تھا کہ مسائل کے متعلق دلائل ہم جانتے ہیں مگر جب باہر جا کر کام کرنا پڑا تو ہمیں پتہ لگا کہ بہت کمی ہے۔پہلے ہمیں یقین تھا کہ ہم وفات مسیح وغیرہ مسائل کے دلائل جانتے ہیں لیکن کام کرتے اور مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیتے وقت پتہ لگا کہ ہمیں وہ دلائل نہیں آتے۔چنانچہ اس پر بعضوں نے دریافت کیا کہ سلسلہ کا لٹریچر مسائل کے بارے میں کون کونسا ہے تا اسے منگوا کر ہم اپنی معلومات بڑھائیں۔اور انہوں نے لکھا کہ ہمیں بڑی شرمندگی ہوئی جب باہر جا کر ہم نے کام کیا اور ہمیں پتہ لگا کہ ہم احمدیت کے مسائل کے متعلق مکمل علم نہیں رکھتے۔چنانچہ اب وہ اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسی طرح تحریک جدید کے ماتحت اس رنگ میں افراد کی تربیت ہوتی ہے کہ انہیں محنت و مشقت سے کام کرنا پڑتا ہے۔شہری آدمی جب کسی گاؤں میں رہتا اور اسے تبلیغ کرنی پڑتی ہے تو محنت و مشقت سے کام کرنے کی وجہ سے اس کے نفس کی بہت کچھ اصلاح ہو جاتی ہے۔پچھلے دنوں بعض آدمیوں نے میرے پاس شکایت کی اور لکھا کہ شہریوں کو شہر میں اور دیہاتیوں کو دیہات میں تبلیغ کیلئے مقرر کرنا چاہئے۔میں نے انہیں کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے جب کہ اس طرح کام لینے سے میری غرض ہی یہ ہے کہ شہری بھی محنت و مشقت سے کام کرنے کے عادی بنیں اور دیہات کی تکلیفیں برداشت کر کے اور کچھ عرصہ دیہاتی طرز رہائش اختیار کر کے ان میں اور دیہاتیوں میں جو جُدائی اور بعد ہے وہ دُور ہو جائے ، میں اس کو ہٹا کس طرح سکتا ہوں۔پس اس تحریک کا ایک مقصد یہ ہے کہ فردی تربیت مکمل ہو جائے۔آٹھواں مقصد اس تحریک کا یہ ہے کہ سلسلہ کے مرکز قادیان کو مضبوط کیا جائے۔تفصیلات کی میں ضرورت نہیں سمجھتا مگر اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ