انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiv of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xiv

انوارالعلوم جلد ۱۴ تعارف کتب حضور نے کارکنان کو نصیحت فرمائی کہ جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے اس پریکٹس کو آئندہ بھی جاری رکھیں یہاں تک کہ دنیا کی ہر کور سے محنت مشقت ، قربانی اور کام کی عمدگی میں بڑھ جائیں اور کسی سے پیچھے نہ رہیں۔فرمایا:۔سچا مؤمن ایک منٹ کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اور اوّل درجہ پر چلا جائے اور یہ دوسرے نمبر پر رہے“۔۳۰ دسمبر ۱۹۳۵ء کے اجلاس میں حضور نے کور کے ممبران کو اہم ہدایات سے نوازا اور انہیں استقلال کے ساتھ کام کو جاری رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔فائدہ اسی کام سے ہوسکتا ہے جو مستقل طور پر کیا جائے اور اُس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک اس کی ضرورت ہو۔وہ بھی استقلال سے کام کریں اور اپنے ساتھیوں اور محلہ والوں کو بھی استقلال سے کام کرنے کی تحریک کریں۔آخر میں آپ نے اچھے اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔وو سب سے بڑی چیز اچھے اخلاق پیدا کرنا، اپنے جذبات پر قابو پانے کی مشق کرنا اور اپنے اندر اطاعت کا مادہ پیدا کرنا ہے۔(۶) زنده خدا کا زنده نشان حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا یہ ایمان افروز مضمون ۱۲ دسمبر ۱۹۳۵ء کا تحریر کردہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۳۳ سال پہلے ایک الہام ہوا تھا جس کا ترجمہ یہ ہے۔لوگ چاہتے ہیں کہ تیرے نور کو بجھا دیں، لوگ چاہتے ہیں کہ تیرے ساز و سامان کو اُچک کر لے جائیں مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے کیونکہ میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں“۔حضور نے بڑی شان کے ساتھ اس الہام کے پورا ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔وہ دن جاتا ہے اور آج کا دن آتا ہے متواتر دنیا کے لوگوں نے خدا تعالیٰ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی اور اس متاع روحانی کو لوٹنے کی کوشش کی جو بانی سلسلہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا مگر ان تمام بدخواہوں اور دشمنوں کے حصہ میں صرف