انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xv

انوار العلوم جلد ۱۴ تعارف کنند کتب نا کامی اور نامرادی آئی اور ہر شورش جو دشمن نے اُٹھائی اسی کے پیچھے سے رحمت الہی کے بادل جھومتے ہوئے آ موجود ہوئے اور ہر فتنہ جو معاندین نے برپا کیا اُسی کے نیچے سے اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا خزانہ نمودار ہوا۔حضور نے احرار کی شورش کا ذکر فرمایا کہ جب اکتوبر ۱۹۳۴ء کو احرار نے حکومت کی پشت پناہی پر قادیان میں جلسہ کر کے جماعت کے خلاف خوب گند اُچھالا اور کہا کہ جماعت حکومت کے اندر ایک نئی حکومت بنا رہی ہے جو ملک کے امن کیلئے خطرہ ہے۔احرار کا یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ حکومت بھی اس کے دھو کے میں آگئی اور ایک مقدمہ کے سلسلہ میں جو بظاہر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری پر تھا، صدرانجمن احمدیہ کے ریکارڈ منگوائے گئے اور خود حضور کو بلوا کر عدالت میں تین دن جرح کی گئی۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر جاری فرما رہا تھا جس کے نتیجہ میں احرار دنیا کے لئے عبرت کا ایک تازہ نشان بن گئے جب احرار اپنی کا رروائی پر خوش ہو رہے تھے اچانک شہید گنج کا واقعہ ہو گیا۔احرار نے اس مسئلہ میں جمہور مسلمانوں کا ساتھ نہ دیا اور غیر مسلموں کی حمایت کی جس سے احرار کی خوب رُسوائی ہوئی اور ذلت کی مار پڑی۔احرار نے اس طرف سے مسلمانوں کی توجہ ہٹانے کے لئے دوبارہ احمدیت کے خلاف زیادہ زہر اگلنا شروع کر دیا اور مباہلہ کے لئے قادیان جانے کا اعلان کر دیا۔حضور نے اپنے تفصیلی مضامین کے ذریعہ حکومت اور احرار پر واضح کیا کہ اگر مباہلہ کرنا ہے تو با قاعدہ شرائط طے کی جائیں اس کے بغیر ان کا قادیان آنا فتنہ وفساد کی غرض سے ہوگا اور اس کی ذمہ داری گورنمنٹ اور احرار پر ہوگی۔چنانچہ گورنمنٹ نے احرار لیڈروں کو قادیان جانے سے روک دیا۔باقی احرار تو خاموش ہو گئے مگر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری قادیان کی طرف چل پڑے۔چنانچہ ۶ دسمبر کو انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ے دسمبر کو گورداسپور کے مجسٹریٹ نے انہیں ۴ ماہ قید کی سزا سنادی۔حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف کا ذکر فرمایا جو آپ نے ۳۳ سال پہلے دیکھا تھا کہ:۔ایک مقام پر میں کھڑا ہوں تو ایک شخص آ کر چیل کی طرح جھپٹا مارکر میرے سر سے ٹوپی لے گیا پھر دوسری بار حملہ کر کے آیا کہ میرا عمامہ لے جاوے مگر میں