انوارالعلوم (جلد 14) — Page 90
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت چیز ہے کہ ہر ایک کے کام آتی ہے اور کوئی ایسا فرد نہیں جسے اس کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔جولوگ پڑھے لکھے ہیں انہیں چاہئے کہ یہ کتاب اپنے پاس رکھیں اور جہاں ڈاکٹروں یا حکیموں سے خاص طور پر مشورہ لینے کی ضرورت نہ ہو ، وہاں اس سے فائدہ اٹھائیں۔علاوہ ازیں جو دوست طب سے دلچپسی رکھتے ہیں اگر وہ بھی اس کتاب کو خرید لیں تو یقیناً یہ کتاب ان کے لئے مفید ہوگی اور مفتی صاحب کی مدد کی صورت بھی ہو جائے گی۔ایک اعلان میں بک ڈپو کی طرف سے کرنا چاہتا ہوں۔پچھلے دو سالوں میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے متعلق تقریر کی تھی اور نظارت تالیف و تصنیف کو ہدایت کی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو ایک جگہ جمع کر دے۔یہ الہامات گو ایک صاحب کی طرف سے جو بعد میں غیر مبائعین میں شامل ہو گئے جمع تھے اور انہوں نے بڑی محنت سے کام کیا تھا اور باوجود اس کے کہ وہ ہمارے مخالف ہیں میں سمجھتا ہوں ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم ان کے کام کی داد دیں کیونکہ انہوں نے بڑی ہمت سے کام لیا اور ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو جمع کیا جب دوسروں کو اس کا خیال نہیں تھا۔انہوں نے یہ کام حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے عہد میں کیا تھا مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ کتاب ختم ہو گئی۔وہ الہامات کا مجموعہ میں نے نظارت تصنیف کی معرفت اب یہاں جمع کروایا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے تیار ہو گیا ہے اور سات سو صفحات کے قریب اس کا حجم ہے اور پہلے مجموعہ الہامات سے بہت زیادہ مکمل ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ یہ کتاب ضرور خریدیں۔اسی سلسلہ میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ناظر صاحب تعلیم و تربیت کی طرف سے میں نے اخبار میں ایک اعلان دیکھا ہے جس میں انہوں نے کسی میری تقریر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے کہا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مجموعہ کی بالالتزام تلاوت کی جائے۔میں سمجھتا ہوں تلاوت کا لفظ قرآن کریم کیلئے ایسا مخصوص ہو چکا ہے کہ کسی اور کتاب کیلئے اس لفظ کا استعمال بہت سی غلط فہمیاں پیدا کرنے کا موجب ہوسکتا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایسے الفاظ استعمال نہ کریں جس سے مفہوم بھی ادا ہو جائے اور غلط فہمی بھی پیدا نہ ہو۔تلاوت کا لفظ بھی ویسا ہی کام دے سکتا ہے جیسے مطالعہ کا لفظ اور چونکہ انسان نے آنکھوں سے دیکھ کر کسی کتاب کو پڑھنا ہوتا ہے اور آنکھوں سے کام لے کر ہی قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اس لئے تلاوت کی بجائے ہمیں مطالعہ کا لفظ استعمال کرنا چاہئے تاکسی قسم کی