انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 51

انوار العلوم جلد ۱۴ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ لکھ دی اور یہ تحریر بذریعہ رجسٹری ۱۵۔نومبر کو انہوں نے مجلس احرار کو بھجوا کر خواہش کی کہ وہ ان سے شرائط کا تصفیہ کر لیں لیکن آج تک اس کا بھی کوئی جواب احرار کی طرف سے نہیں دیا گیا۔اگر میرا یہ بیان درست نہیں تو میں اس کے غلط ثابت کرنے کیلئے بھی مزید ایک سو روپیہ کی رقم مجلس احرار کیلئے بطور انعام مقرر کرتا ہوں۔اگر وہ یہ ثابت کر دیں کہ ایسا رجسٹری خط انہیں نہیں بھجوایا گیا یا یہ کہ اس رجسٹری کا جواب وہ میری اس تحریر سے پہلے ناظر دعوۃ و تبلیغ کو تحریر بھجوا چکے ہیں تو ایک سو روپیہ جو میرا کوئی نمائندہ پہلے سے مسٹر کچلو کے پاس جمع کرا دے گا مسٹر کچلو احرار کے سپرد کر دیں گے لیکن اگر وہ میری بات کو غلط ثابت نہ کر سکے یا روپیہ جمع کرانے کے بعد پندرہ دن کے اندرا انہوں نے مسٹر کچلو کے پاس اپنا ثبوت پیش نہ کر دیا تو پھر یہ روپیہ جمع کرانے والے کو واپس دے دیا جائے گا۔دوسری حرکت جس کا ارتکاب احرار کی طرف سے ہو رہا تھا یہ تھی کہ وہ اس مباہلہ کے چیلنج کو قادیان میں کا نفرنس کے انعقاد کا ذریعہ بنارہے تھے۔میں نے اس امر کا ثبوت پیش کر کے اپنے اشتہار مؤرخہ ۷۔نومبر کے ذریعہ اعلان کر دیا کہ اگر احرار فی الواقع مباہلہ کرنا چاہتے ہیں نہ کہ کانفرنس یا جلسہ تو اخباروں میں اعلان کر دیں کہ وہ زمانہ مباہلہ میں قادیان میں علاوہ مجلس مباہلہ کے کوئی اور کانفرنس یا جلسہ نہیں کریں گے نہ اپنی طرف سے نہ ماتحت مجالس کی طرف سے اور نہ افراد کی طرف سے۔اور یہ کہ وہ صرف انہیں لوگوں کو ساتھ لائیں گے جن کے نام مباہلہ کی فہرست میں آجائیں جو فہرست کی شائع شدہ شرائط کے مطابق پانچ سو یا ہزار سے زائد نہیں ہونے چاہئیں، سوائے دس یا پندرہ فی صدی کے جو بطور ریز رو رکھے جائیں تا غیر حاضروں کی جگہ ان سے پر کی جائے۔اور میں نے لکھا تھا کہ ایسی تحریر ہمیں قبل از وقت دینے کی صورت میں ہم قادیان میں ہی مباہلہ کرنے پر تیار ہوں گے اور اگر وہ یہ تحریر نہ دیں اور ایسا اعلان نہ کریں تو اس کے یہ صاف معنی ہوں گے کہ وہ مباہلہ کو کانفرنس کا بہانہ بنانا چاہتے ہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھو میرا اشتہار مطبوعہ ۷۔نومبر ۱۹۳۵ء) مگر افسوس کہ اس وقت تک ان کی طرف سے نہ تو یہ اعلان ان الفاظ میں ہوا ہے جن الفاظ میں کہ میرا مطالبہ تھا اور نہ ہی ایسی کوئی تحریر ہمارے مطالبہ کے مطابق ہمیں دی گئی ہے۔اگر یہ میرا بیان درست نہیں تو اس کے لئے بھی میں شرائط مذکورہ بالا کے مطابق ایک سو روپیہ کا مزید انعام مقرر کرتا ہوں۔جماعت احمدیہ کے نمائندے، احرار کے اشتہارات اور نیز بعض گواہوں کی گواہیوں سے یہ ثابت کریں گے کہ