انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 38

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔۔سے پُر کر لی جائے۔ہاں اگر اظہر صاحب کو یہ خیال ہو کہ شاید وہ پانچ سو کا پانچ سو ہی نہ پہنچ سکے تو پھر کیا ہو گا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ معاملہ ہو کہ پندرہ فی صدی سے زائد آدمی ریز رو رکھ کر بھی ان کے غیر حاضروں کی کمی پوری نہ ہو سکے تو یہی سمجھا جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے اس قوم کو مباہلہ سے بھی پہلے پکڑ لیا ہے ورنہ دس پندرہ فی صدی کی اتنی تعداد ہے کہ عام حالات میں اس قدر آدمیوں کا ایسے اہم کام کے لئے پختہ وعدہ کر کے نہ پہنچ سکنا ایک خلاف عقل بات ہے۔اور یا تو وہ لوگ عذاب الہی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس حد تک معذور ہو جائیں گے۔یا پھر یہ سمجھا جائے گا کہ دین کے لئے قربانی کرنے کا ان میں مادہ ہی نہیں۔اور یہ خود ان کے باطل پر ہونے کا ایک ثبوت ہوگا۔شاید اظہر صاحب کو اپنا پہلا فقرہ یاد نہیں رہا اسی لئے وہ ساتھ یہ فقرہ بھی لکھ گئے ہیں کہ ہم اپنی طرف سے ان کی ہزار کی شرط کو بھی منظور کر چکے ہیں۔“ (مجاہدہ نومبر صفحہ ۷) یہ عجیب لطیفہ ہے۔کہ اپنی نسبت تو وہ لکھتے ہیں کہ پانچ سو یا ہزار کی شرط مرزا محمود کی عائد کردہ ہے ہمارے نمائندے ہزار سے بھی بہت زیادہ ہوں گے اور ہماری نسبت لکھتے ہیں کہ ہم انہیں پانچ سو یا ہزار کا پابند نہیں کرتے بلکہ جس قدر آدمی ان کومل سکیں وہ لے آئیں۔جب دونوں فریق کو ہی انہوں نے اس شرط سے آزاد کر دیا تو اس فقرہ کے معنی ہی کیا ہوئے کہ اپنی طرف سے ہم ان کی ہزار کی شرط کو بھی منظور کر چکے ہیں انہیں تو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ ہم اس شرط کو دونوں فریق پر سے اُڑا چکے ہیں۔احرار کا تاریخ مباہلہ مقرر کرنا میں نے اعتراض کیا تھا کہ احرار کو۲۳۔نومبر کی تاریخ مقرر کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ان کے اس اعلان کے بعد کہ انہیں میری سب شرائط منظور ہیں، میرے شائع کردہ اعلان کی روشنی میں یا تو تاریخ مقرر کرنے کا حق مجھے حاصل ہے یا دونوں فریق کو مجموعی طور پر۔اس پر مسٹر مظہر علی صاحب اظہر لکھتے ہیں کہ شاید مرزا صاحب کو بھول گیا ہے کہ وہ اپنے خطبہ مطبوعہ ۱۸۔اکتوبر میں کہہ چکے ہیں کہ :۔خدا تعالیٰ نے ان (احرار ) کی گردن پکڑی ہے، اس لئے کسی کو سامنے آنے کی جرات نہیں ہوئی اگر ہمت ہے تو سب کے سب آئیں۔“ اول تو اس فقرہ میں تحریف ہے لیکن اسے درست سمجھ کر بھی میں ہر اُردو دان شخص سے