انوارالعلوم (جلد 14) — Page 39
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔۔پوچھتا ہوں کہ کیا اُردو سے مس رکھنے والا شخص اس عبارت کے وہ معنی کر سکتا ہے جو اظہر صاحب نے کئے ہیں۔میں نے یہ فقرہ اس موقع پر استعمال کیا تھا کہ احرار با قاعدہ سب لیڈروں کی طرف سے مباہلہ کو منظور کرنے کی بجائے ایک شخص کو قادیان بھیج دیتے ہیں جو اپنی طرف سے ایک اعلان کر دیتا ہے۔کیوں نہیں سب کے سب جو میرے مخاطب ہیں اس کی منظوری کا اعلان کرتے۔اس سے تاریخ کی تعیین کا حق احرار کو کہاں سے ملا۔احرار کی دھینگا مشتی لطف یہ ہے کہ میرے جس خطبہ سے یہ فقرہ چنا گیا ہے اس کے آخر میں میرا یہ فقرہ بھی موجود ہے کہ :۔”جب نہ کوئی تاریخ مقرر ہوئی ہے نہ شرائط طے ہوئے ہیں تو احمدی فرار کیسے کر گئے؟ فرار تو تب ہے کہ شرائط طے ہو جائیں ، وقت مقرر ہو جائے اور پھر ایک فریق نہ آئے“۔(الفضل ۸۔اکتوبر) اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ میرے نزدیک شرائط کا طے ہونا اور اس کے بعد وقت کا مقر ر کیا جانا دونوں فریق کے اختیار میں رکھا گیا ہے نہ کہ احرار کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہو شرط پیش کر دو اور جو چاہو وقت مقرر کر دو۔جب میرے نزدیک اب تک شرائط ہی طے نہیں ہو ئیں تو میں تاریخ سے کس طرح اتفاق کر سکتا ہوں۔اسی طرح میرے خطبہ مطبوعہ ۶۔اکتوبر میں لکھا ہے:۔”جو شرائط احرار پیش کرنا چاہتے ہیں وہ پیش کریں تا کہ جلد سے جلد مباہلہ کی تاریخ اور مقام کی تعیین کا اعلان کیا جا سکے۔“ ان فقرات کی موجودگی میں اور بغیر اس کے کہ زبان ان معنوں کی اجازت دیتی ہو جو میرے مذکورہ بالا فقرہ سے مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے نکالے ہیں، احرار کے لئے یہ حق نکال لینا کہ وہ جو تاریخ چاہیں مقرر کر دیں، معقولیت نہیں بلکہ دھینگا مشتی ہے۔احرار کی ٹال مٹول کی وجہ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ احرار کا اس قسم کی ٹال مٹول سے مطلب کیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ احرار کو اس سال قادیان میں کانفرنس کرنے سے حکومت نے روک دیا تھا۔جب انہوں نے میرا چیلنج مباہلہ پڑھا تو انہوں نے سوچا کہ مباہلہ تو خیر دیکھا جائے گا اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر ہم حکومت سے برسر پیکار ہوئے بغیر قادیان میں کانفرنس کر لیں گے کیونکہ مباہلہ کا چیلنج۔