انوارالعلوم (جلد 14) — Page 23
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھا ئیں گے ہو خلاف میل ہوگی مسل دیں گے خواہ بوجہ اس کے کہ وہ ہمارا دوست یا رشتہ دار تھا ، ہمارا اپنا دل بھی ساتھ ہی مسلا جائے۔ہمیں اپنے بیوی بچوں، والدین ، بہنوں بھائیوں اور دوستوں رشتہ داروں سے بھی کہہ دینا چاہیئے کہ تمہارے ساتھ ہمارے تعلقات اسی صورت میں رہ سکتے ہیں کہ تم دین کے لئے مصائب کی آگ میں ہم سے پہلے گود جاؤ اور کہو کہ یہ آگ نہیں جنت ہے۔لیکن اگر تم قربانیوں کے رستہ میں ہمارے لئے روک بنو گے تو تمہارے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔گا۔حکومت سے کہہ دو کہ ہم خیر خواہ اور امن پسند ضرور ہیں مگر یہ کبھی گوارا نہیں کر سکتے کہ سلسلہ کی عزت کو کم کیا جائے۔ادب سے لیکن کھول کر حکومت کو یہ سنا دو کہ ہم سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ ہم سلسلہ کی بے عزتی حکام کے ہاتھوں ہوتی دیکھیں اور پھر بھی جی ہاں جی ہاں کہتے ہوئے سر جُھکائے رکھیں ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا۔مسلمانوں سے کہہ دو کہ تمہارے لئے ہم ہمیشہ قربانیاں کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن یہ کبھی نہ ہوگا کہ احمدیت میں اس وجہ سے کوئی کمزوری آنے دیں۔جس دن تم احمدیت کے خلاف تلوار اُٹھا ؤ گے، اُس دن بس دو ہی صورتیں ہمیں مطمئن کر سکیں گی یا تو یہ کہ تم ایمان لے آؤ اور یا پھر یہ کہ پیٹھ دکھا کر بھاگ جاؤ۔منافقوں کو اچھی طرح سن لینا چاہئے کہ ان کے بارے میں ہم کوئی نرمی یا کمزوری اختیار نہیں کریں گے۔ان کا ہم سنگدل انسان کی طرح مقابلہ کریں گے اور ان کی تباہی ہمارے لئے عید کا دن ہوگا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم میں سے ہر ایک کو توفیق دے کہ سلسلہ کے لئے قربانیاں کر سکے۔اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اخلاص، انصاف اور عدل پیدا کرے۔تاہم جنگ کی حالت میں کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے سلسلہ بدنام ہو۔ایک طرف ہمیں حکومت سے وفاداری کو قائم رکھنے اور دوسری طرف سلسلہ کی عظمت و وقار کو برقرار رکھنے کی توفیق عطا کرے۔مسلمانوں سے ہمیں دوستی کرنے کی توفیق دے مگر یہ بھی توفیق دے کہ ہر اس آنکھ کو جو احمدیت کو ٹیڑھی نظر سے دیکھے ، پھوڑ ڈالیں۔وہ ہماری کمزوریوں ، جہالتوں اور غفلتوں کو دور کر کے نیک ، خادم دین، مخلص اور سچا مومن بنائے۔اپنے دین کے رستہ پر چلنے کی توفیق دے۔اور ہم اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں۔ا شرح دیوان حسان بن ثابت صفحه ۱۲۵ مطبع رحمانیہ مصر ۱۹۲۹ء مسند احمد بن حنبل جلد اول صفحہ ۱۹۲ مطبوعہ دارالفکر بیروت ( الفضل ۱۲۔جون ۱۹۳۵ء)