انوارالعلوم (جلد 14) — Page 565
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر حضرت عثمان کے زمانہ میں جب فتنہ اُٹھا تو اُس وقت کوفہ کے گورنر سعید بن العاص تھے۔حضرت عثمان کو ان پر اتنا اعتماد تھا کہ جب آپ نے قرآن لکھوانے کا فیصلہ کیا تو آپ نے سعید بن العاص کو ہی اس کونسل کا پریذیڈنٹ بنایا جو مختلف نسخوں کا مقابلہ کرتی تھی اور فرمایا جہاں اختلاف ہو وہاں جو فیصلہ سعید بن العاص کرے گا وہی قبول کیا جائے گا۔یہ گورنر ہو کے جب کوفہ آئے اور لوگوں کو پتہ لگا کہ سعید بن العاص آ رہے ہیں تو ان میں سے ایک شخص نے جو حمص سے کوفہ کی طرف جارہا تھا اور جو عبد اللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے تھا کوفہ پہنچ کر ایسی حالت میں جبکہ جمعہ کی وجہ سے سب لوگ مسجد میں جمع تھے کہنا شروع کر دیا کہ میں ابھی سعید بن العاص سے جُدا ہوا ہوں اور اسکے ساتھ ایک منزل ہم سفر رہا ہوں۔وہ عَلَى الِاعْلان کہتا ہے کہ میں کوفہ کی عورتوں کی عصمتوں کو خراب کر دوں گا اور کہتا ہے کہ کوفہ کی جائیداد میں قریش کا مال ہیں اور یہ شعر فخر یہ پڑھتا ہے کہ:۔وَيُلٌ لا شَرَافِ النِّسَاءِ مِنّى کہ کوفہ کی شریف عورتوں میں سے ایک کی عصمت بھی نہیں بچے گی اور میں ان سے اس طرح بدکاری کروں گا جس طرح پتھر سے پتھر ٹکراتا ہے تو آوازیں نکلتی ہیں کیونکہ میں ایسا مضبوط آدمی ہوں گو یا جنات میں سے ہوں۔عوام الناس نے جب یہ سنا تو اُن کی عقل ماری گئی اور جب سعید بن العاص آئے تو انہیں کہنے لگے ہمیں آپ کی ضرورت نہیں آپ واپس چلے جائیں حالانکہ یہ بالکل جھوٹا الزام تھا جو سعید بن العاص پر لگایا گیا غرض وہ مسلمانوں پر عموماً اور خلفاء پر خصوصاً بد کاری کے الزامات لگا یا کرتے تھے۔(۳) وہ خلفاء پر مال کو غلط طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتے خصوصاً حضرت عثمان پر۔(۴) ظلم کا الزام لگاتے کہ تم سخت ظالمانہ سزائیں دیتے ہو۔(۵) با وجود بظاہر عبادت اور زہد اور شدت فی الاسلام کا دعویٰ کرنے کے کفار کے ساتھ ان کا میل جول زیادہ ہوتا۔(۶) خلافت اور امارت کے خلاف اعتراض کرتے رہتے اور قوم کو بحیثیت مجموعی خلیفہ قرار دیتے اور اَلَا مُرُشُوری بَيْنَهُمُ سے استدلال کرتے تھے۔اب دیکھو کہ کس طرح ان امور میں مصری صاحب اور خوارج کے درمیان اتحاد پایا جاتا