انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 561

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر جیسے حضرت عثمان کے وقت کیا کرتے تھے اور چاروں طرف سے نعرہ تحکیم بلند کرنا شروع کر دیا۔پہلے ایک طرف سے آواز اٹھی لَا حُكْمَ الَّا لِلهِ پھر دوسری طرف سے آواز اٹھی لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ پھر تیسری طرف سے آواز آئی لَا حُكْمَ إِلَّا لِلهِ پھر چوتھی طرف سے آواز اٹھی لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ - حضرت علی نے جواب میں کہا۔اَللهُ اَكْبَرُ كَلِمَةُ حَقِّ اُرِيْدَ بِهَا بَاطِلٌ بات تو جو تم کہتے ہو کچی ہے مگر دیکھو تم یہ سچی بات کیسی بُری جگہ استعمال کر رہے ہو اور کیسا غلط استدلال کر رہے ہو۔اسی طرح ایک اور دن حضرت علی خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر تحکیم کی آواز بلند کی اور پھر ہر طرف سے مختلف لوگوں نے تحکیم کی آواز بلند کرنی شروع کر دی اس پر حضرت علیؓ نے کہا۔اللَّهُ أَكْبَرُ كَلِمَةُ حَقَّ اُرِيْدَبِهَا بَاطِل اور پھر فرمایا تم میری خلافت پر اعتراض کرتے ہو مگر کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ امارت ضروری ہے چاہے نیک کی ہو یا بد کی۔یہ کہہ کر آپ خطبہ کیلئے کھڑے ہوئے مگر انہوں نے پھر لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ کا شور مچادیا۔جس پر آپ کو خطبہ چھوڑنا پڑا اور خطبہ بند کر کے گھر چلے گئے۔۲۸ خوارج جیسا کہ میں بتا چکا ہوں حضرت عثمان کے زمانہ سے شروع ہوئے اور حضرت علی کے زمانہ میں ایک باقاعدہ جماعت بن گئے۔حضرت عثمان کے زمانہ میں محبانِ علی اپنے آپ کو ظاہر کرتے تھے اور بعد میں حضرت علیؓ سے جُدا ہو کر ایک علیحدہ جماعت بن گئے۔مگر اس وقت بھی ممتاز جماعت نہ بنے تھے صرف حضرت علیؓ کی مخالفت اور ان پر ذاتی اعتراض تک ان کا اختلاف محدود تھا۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے بحث مباحثہ سے ایک خاص شکل ان کے عقائد کی ہوتی گئی۔آخر ۶۴ ھ میں انہوں نے اپنے اصول با قاعدہ تجویز کئے اور اس موقع پر ان میں اختلاف ہو گیا اور وہ پانچ فرقے ہو گئے۔واقعہ اس طرح ہوا کہ اُس وقت خوارج دو علاقوں میں پھیل گئے، کچھ بصرہ کی طرف اور کچھ یمامہ میں۔جو بصرہ میں تھے ان کا لیڈ ر نافع بن الا زرق تھا اور جو یمامہ کو گئے ان کا لیڈ ر نجدہ بن عویمر تھا اور ان کے ناموں کے دو فرقے بن گئے ایک از ارقہ کہلاتے تھے اور دوسرے نجدیین۔نافع بن از رق نے اپنے مذہب کے اصول بنائے اور جماعت کو جمع کر کے یوں بیان کیا کہ کیا ہم شریعت کے تابع اور قرآن اور سنت کے متبع نہیں؟ ساتھیوں نے کہا ہاں۔اس نے کہا کیا ہمارے دشمن رسول کریم ﷺ کے دشمن نہیں اور آپ کے دشمن چونکہ مشرک تھے کیا وہ مشرک نہیں؟ انہوں نے کہاں ہاں۔اس پر اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بَرَاءَةٌ مِّنَ اللهِ وَ رَسُولِهِ