انوارالعلوم (جلد 14) — Page 555
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر عورتوں تک کو ذبح کر دیتے اور اپنے اس فعل پر ذرا بھی ندامت اور شرم محسوس نہ کرتے۔انہی لوگوں میں سے ایک شخص ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاس گیا اور کہا میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا ہاں دریافت کرو۔وہ کہنے لگا یہ بتائیے اگر کوئی شخص حج کیلئے جائے اور اس نے احرام باندھا ہو ا ہو اور اُس سے غلطی سے کوئی مچھر مر جائے تو اس کا کیا کفارہ ہو گا ؟ بعض روایتوں میں مچھر کی بجائے یہ ذکر آتا ہے کہ اس نے کہا کہ اگر احرام کی حالت میں کسی سے لکھی مر جائے تو کیا کفارہ دے؟ حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا میں تیرے اس سوال سے خوب سمجھتا ہوں کہ تو کون ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ تو خارجیوں سے تعلق رکھتا ہے سوسنو ! صلى الله جب تم نے خدا تعالیٰ کے مقدس رسول کی پیاری بیٹی کی اولاد کو جس کی نسبت رسول کریم علی نے یہ فرمایا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ مجھے عزیز ہے ذبح کیا تھا تو کیا تم اس وقت مجھ سے فتویٰ پوچھنے آئے تھے کہ آج تم یہ فتویٰ پوچھنے لگے ہو کہ اگر احرام کی حالت میں تم سے مکھی مر جائے تو کیا کفارہ ہے۔غرض ظلم اور قتل اور بے دینی کے ساتھ ان کو تقوی کا بھی دعوی تھا اور اس طرح متضاد با تیں ان میں جمع تھیں۔حضرت علی کو جب یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن خباب اور ان کی بیوی کو قتل کر دیا ہے تو اس کی تحقیق کے لئے انہوں نے الحارث بن مرہ کو بھیجا مگر انہوں نے ان کو بھی قتل کر دیا۔آخر حضرت علیؓ کو ان لوگوں کے مقابلہ کیلئے نکلنا پڑا مگر جب آپ مقابلہ کیلئے نکلے تو ایک اور واقعہ ایسا پیش آیا جس سے ان لوگوں کی سازش کا بخوبی پتہ چلتا ہے اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کے بعض آدمی رشوت دے کر خریدے ہوئے تھے۔چنانچہ جب آپ گھوڑے پر سوار ہوئے تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور کہنے لگا حضور ! میں نے نجوم دیکھے ہیں اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ سفر بڑا منحوس ہے آپ اس پر نہ جائیں حالانکہ وہ صحابہ کے قریب کا زمانہ تھا اور اس قسم کے تو تو ہمات ابھی مسلمانوں میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔حضرت علیؓ نے کہا میں ان باتوں کو نہیں مانتا اور یہ کہتے ہوئے آپ مقابلہ کیلئے نکل کھڑے ہوئے جب آپ وہاں پہنچے تو آپ نے قیس بن سعد بن عبادہ کو ان کے پاس بھجوایا کہ حضرت عبد اللہ بن خباب کے قاتل کو ہمارے سپرد کر دو۔مگر انہوں نے کہا ہم سب نے ان کو قتل کیا ہے کوئی ایک شخص قاتل نہیں۔پھر حضرت علی خود گئے اور آپ نے چاہا کہ انہیں سمجھائیں کہ اسلام کی عظمت اور اس کی ترقی میں روک مت بنو اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا نہ کرو مگر انہوں نے اپنے