انوارالعلوم (جلد 14) — Page 535
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر متقیوں کے ساتھ ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ محسنوں کے ساتھ ہے۔مصری صاحب کو میرے متقی ہونے میں طبہ ہے اس لئے اس جھگڑے کا فیصلہ اب اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم قرآن سے ہی دیکھیں کہ اس آیت کا جو دوسرا حصہ ہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ محسنوں کے ساتھ ہے اس کے لحاظ سے وہ میرے محسن ہیں یا میں ان کا محسن ہوں۔اگر وہ میرے محسن ہوں تو متقی بھی وہی ہو سکتے ہیں اور اگر میں ان کا محسن ہوں تو لازماً متقی بھی میں ہی ہونگا۔اس لحاظ سے اگر دیکھو گے تو یہی ثابت ہوگا کہ میں ان کا محسن ہوں۔چنانچہ مصری صاحب کو مصر صد را مجمن احمدیہ نے نہیں بھیجا بلکہ ان کے مصر جانے اور وہاں کے قیام کے اخراجات کیلئے کچھ روپیہ میں نے دیا تھا اور کچھ روپیہ چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم نے دیا تھا۔اس طرح ہم دونوں نے انہیں مصر بھیجا تھا پس ان کی مصریت کی عظمت بھی میری وجہ سے ہی قائم ہوئی کیونکہ میں نے اور چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم نے اُن کے اخراجات برداشت کئے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ میں محسنوں کے ساتھ ہوں۔پس جب محسن میں بنا تو لا ز با متقی بھی میں ہی ٹھہرا اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات نے بھی ثابت کر دیا کہ میں ہی متقی اور میں ہی محسن ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ایک جماعت جس کے دو لیڈر ہونگے بہتان باندھے گی۔وہ لوگ جہاں بھی ہونگے اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے اور ان سے قطع تعلق کرنے کا حکم دیا جائے گا۔پس اے لوگو! اس گروہ سے زینب کا تعلق پیدا کر کے اُسے بھی اس ہلاکت میں نہ ڈالو۔یاد رکھو کہ یہ فتنہ معمولی نہ ہوگا بلکہ آسمان پر بھی اس سے تہلکہ پڑ جائے گا پس اس کام کی جرات نہ کرو۔پہلی پیشگوئی او پر جو شریح بیان کی جا چکی ہے اس سے باقی سب با تیں تو ظاہر ہیں البتہ لَا تَقْتُلُوا زَيْنَبَ کا حل رہ جاتا ہے کیا واقعہ میں اس الہام سے اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے؟ سو یا درکھنا چاہئے کہ زینب کی شمولیت اس فتنہ میں شیخ مصری صاحب سے شادی کی وجہ سے ہوئی ہے اس لئے اب ہم ابتداء کی تاریخ کو دیکھتے ہیں کہ اس میں اس کا کیا حل ہے۔سو ہمیں اس الہام کا ایک واضح شانِ نزول مل جاتا ہے جو یہ ہے کہ ۱۹۰۸ ء کے شروع میں حافظ احمد اللہ خان صاحب مرحوم کی دولڑکیوں کی شادی کی تجویز ہوئی جن میں سے بڑی کا نام زینب اور چھوٹی کا نام کلثوم تھا۔زینب کے متعلق اور بھی بعض لوگوں کی خواہش تھی چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی شادی شیخ مصری صاحب سے ناپسند کی لیکن حسب عادت زیادہ زور نہیں دیا۔انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا کہ لَا تَقْتُلُوا زَيْنَبَ