انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 536

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر زینب کو ہلاک مت کرو۔حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم نے دوسرے شخص کو کسی نہ کسی وجہ سے ناپسند کیا اور یہ خیال کیا کہ اس الہام کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشورہ غلط ہے وہاں شادی نہ کی جائے بلکہ مصری صاحب سے شادی کی جائے اور خیال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رائے کو الہام نے رڈ کر دیا ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات نہ مانی اور شیخ مصری صاحب سے شادی کر دی۔چنانچہ یہ الہام ۹۔فروری ۱۹۰۸ ء کو ہوا اور ۱۷۔فروری ۱۹۰۸ ء کو شیخ مصری صاحب کا نکاح زینب سے کر دیا گیا اور یہ تاریخ اس طرح محفوظ رہی کہ مصری صاحب کا نکاح دو اور نکاحوں سمیت اُسی دن ہو ا تھا جس دن کہ ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح ہوا تھا اور وہ ۱۷۔ضروری تھی۔گویا اللہ تعالیٰ نے صاف کہہ دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات مان لو اور مصری صاحب سے نکاح نہ کرو ورنہ یہ نکاح اسے منافق بنانے کا نتیجہ پیدا کر دے گا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو شاید اس زینب کے متعلق اسے سمجھا ہی نہیں اور لڑکی کے باپ نے اُلٹ نتیجہ نکالا حالانکہ خدا تعالیٰ کا منشاء اس الہام سے یہ تھا کہ اس شخص سے ایک بھاری فتنہ پیدا ہونے والا ہے اس سے زینب کی شادی نہ کرو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات مان لو۔پھر اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو یہی مشورہ دیا تھا۔چنانچہ جب مصری صاحب جماعت سے علیحدہ ہوئے ہیں تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حافظ حمداللہ صاحب مرحوم کو کہا تھا کہ شیخ عبدالرحمن صاحب سے شادی نہ کی جائے مگر جب حافظ صاحب نے اس بات کو نہ مانا اور اسی جگہ لڑکی کی شادی کر دی تو مجھے سخت غصہ آیا اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ حضور خدا تعالیٰ کے مامور ہیں اور خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب مامور ایک بات کہہ دے تو تمام مومنوں کو چاہئے کہ اس پر عمل کریں مگر حافظ احمد اللہ صاحب نے حضور کی نافرمانی کی ہے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا بات تو آپ نے جو کہی ہے یہ ٹھیک ہے مگر ایسے معاملات میں میں دخل نہیں دیا کرتا۔جب یہ روایت مجھے پہنچی تو گو اس روایت میں مجھے کوئی شبہ نہیں ہو سکتا تھا مگر چونکہ یہ اکیلی روایت تھی اس لئے مجھے اس بات کا فکر ہوا کہ کوئی اور گواہ بھی ہونا چاہئے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ دوسرے دن کی ہی ڈاک میں مجھے ایک خط ملا جو نشی قدرت اللہ صاحب سنوری کی طرف سے تھا۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ۱۹۱۵ء میں جب میں قادیان آیا تو اُس وقت مجھے کسی دوست سے قرآن