انوارالعلوم (جلد 14) — Page 494
انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۷ء پر اور اپنے اوپر حسن ظنی کرتی ہیں ، وہ آگے بڑھتی ہیں اور جو بدظنی کرتی ہیں وہ پیچھے بہتی ہیں۔چند ہی دن ہوئے جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر کے متعلق میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس کے لکھنے والا ایک پروفیسر ہے ، اس نے یہ بتایا ہے کہ جرمن قوم کو ذلت سے نکال کر کس طرح ہٹلر ترقی کی طرف لے گیا۔اس نے لکھا ہے کہ جرمن یہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ چونکہ ہم جنگ میں ہار گئے ہیں اس لئے ہم وہ نہیں جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ بڑے بہادر اور جری ہیں مگر ہٹلر نے آ کر کہا۔میدان جنگ میں ہمیں کسی نے شکست نہیں دی بلکہ یہودیوں وغیرہ کے ملک میں خرابی اور بغاوت پیدا کرنے کی وجہ سے ہم ہارے ، ہم اب بھی بہادر ہیں۔اس سے نو جوانوں کے حوصلے بڑھ گئے اور ان کے سینے تن گئے۔یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ اس قوم نے سر اٹھا نا شروع کر دیا اور جب اس نے سر اٹھا نا شروع کیا تو فرانسیسی اور انگریز نے سر جھکانا شروع کر دیا۔جب میں نے یہ پڑھا تو کہا دیکھو کیسا اعلیٰ فلسفہ ہے مگر ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سو سال پہلے بیان فرما دیا تھا کہ مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَ أَهْلَكَهُمُ ۵ کہ جس نے قوم کے اندر یہ خیال پیدا کیا کہ قوم خراب ہوگئی اس نے قوم کو تباہ کر دیا کیوں ؟ اس نے بدظنی پیدا کی خدا تعالیٰ کے متعلق کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں چھوڑ دیا اور بدظنی کی اپنے نفس کے متعلق کہ ہم خود خراب ہو گئے ، ہماری اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔اس وقت میں جلسہ کا افتتاح دعا کے ساتھ کرنے کیلئے کھڑا ہوا تھا مگر میری باتوں نے تقریر کا رنگ اختیار کر لیا۔آپ سب صاحبان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اس لئے یہاں آتے ہیں کہ یہ ظاہر کریں۔اے خدا! ہم آپ پر حسن ظنی رکھتے ہیں اور پوری طرح یقین رکھتے ہیں کہ جس مقصد کیلئے آپ نے ہمیں کھڑا کیا ہے وہ پورا ہوکر رہے گا۔گویا ہم یہاں کسی قسم کی مایوسی کے اظہار کیلئے نہیں بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ یقین اور ایمان کا اظہار کریں اور خدا تعالیٰ سے کہیں کہ ہمیں تیرے وعدوں پر پورا پورا یقین ہے اور ہم تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہاں آئے ہیں۔یہاں جو تقریریں کی جائیں ، ان میں بھی یہی بات مد نظر ہونی چاہئے اور اپنے جذبات سے بھی یہی ظاہر کرنا چاہئے۔کوئی احمق ہی خیال کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی بھی کرے اور وہ اسے ترقی اور عروج کی طرف لے جائے۔یا اپنے نفس پر بدظنی کرے اور پھر نیک بن جائے۔اگر کوئی پاگل اپنے آپ کو کتا سمجھے تو وہ تقریر کرنے کھڑا نہیں ہو جائے گا بلکہ بھوں بھوں کرنے لگے گا اور اگر کوئی پاگل اپنے آپ کو نبی سمجھے تو وہ مذہب کے متعلق باتیں بیان کرے گا۔تم لوگ اگر اپنے