انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 483

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض یہ امر ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے تحریک جدید کے دوسرے دور کے سامان کہ لڑائی سے پہلے سوتوں کو جگایا جاتا ہے ، غافلوں کو ہوشیار کیا جاتا ہے، پھر صف بندی کی جاتی ہے یہ قانون جس طرح جسمانی لڑائیوں میں جاری ہے روحانی لڑائیوں میں بھی جاری ہے اور اسی قانون کے مطابق اس روحانی جنگ کیلئے میں سوتوں کو جگا رہا تھا، غافلوں کو بیدار کر رہا تھا تا اس فتنہ کے پیچھے خدا تعالیٰ کی جو نعمتیں پوشیدہ ہیں، اُن تک جماعت کو لے جاؤں اور تا تحریک جدید کا دوسرا دور پہلے سے بھی زیادہ شاندار ہو۔تا دنیا پر میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ایک اور حجت قائم کروں کہ قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقے ہی سب طریقوں سے زیادہ کامل اور اعلیٰ ہیں۔مگر اے احمدیت کے سپاہیو! مجھے افسوس ہے کہ آپ میں سے بعض نے اپنے جرنیل کے حکم کا انتظار نہ کیا بلکہ اس کی پالیسی کے بالکل خلاف اور اپنے رب کی تعلیم کے بالکل خلاف ایک ایسا قدم اُٹھا لیا کہ اب کچھ عرصہ تک بجائے آگے بڑھنے کے مجھے اس کے نقصان کے ازالہ میں اپنا وقت صرف کرنا پڑے گا۔اطاعت امام کا بے مثال نمونہ دکھاؤ ہما را دعوی ہے کہ ہمیں دوسروں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ ہم ایک امام کے ہاتھ پر جمع ہیں مگر میرے لئے یہ کتنا تلخ گھونٹ تھا جبکہ ایک سرکاری افسر نے مجھ سے سوال کیا کہ امن کے قیام کیلئے آپ ہماری کس حد تک مدد کر سکتے ہیں۔تو بجائے اس کے کہ میں یہ کہوں کہ میں سو فیصدی احمدیوں کا ذمہ وار ہوں کہ ان کی طرف سے کوئی فساد نہیں ہوگا ، ان کی طرف سے کوئی فساد نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ سب میرے حکم کے تابع ہیں، وہ سب اپنے رب کی آواز پر کان دھرے بیٹھے ہیں ، مجھے یہ کہنا پڑا کہ قیام امن کی کوششوں میں آپ کے ارادے اور میرے ارادے ایک ہی ہیں۔میں احمدیوں کو قیام امن کیلئے تاکید کرتا رہتا ہوں اور اب بھی تاکید کر چکا ہوں اور پھر بھی تاکید کروں گا مگر مجھے افسوس ہے کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اس میں سو فیصدی کامیابی ہوگی۔میں اپنے جواب پر سوائے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کے اور کیا کر سکتا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا لیڈر نہیں جس کی سو فیصدی لوگ اطاعت کرتے ہوں۔مسٹر گاندھی کا کانگرسیوں پر خاص اثر ہے مگر سو فیصدی ان کی بھی نہیں مانی جاتی ، ہٹلر اپنے